قومی

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کی عمر چار برس کے قریب ہو گئی

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کے چار سال مکمل ہونے کو ہیں۔ ان چار سالوں کے دوران صوبائی دارالحکومت پشاور میں بلدیاتی نظام کے ثمرات کس حد تک عوام کو پہنچے۔ پشاور سمیت صوبہ بھر میں مئی 2015ء کو بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ ستمبر میں ناظمین نے اپنے کام کا آغاز کیا تو شور اٹھا کہ فنڈز اور اختیارات کی کمی ہے۔ پشاور کی ضلعی حکومت اور چاروں ٹائونز کو فنڈز فراہم کئے گئے۔ اس کے باوجود پشاور کی تقدیر نہ بدل سکی۔
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے پچیس اضلاع کیلئے سالانہ 30 ارب روپے مختص کئے۔ 138 ممبران پر مشتمل پشاور کی ضلعی حکومت کو ترقیاتی کاموں کیلئے سالانہ ایک ارب روپے دیئے گئے جبکہ چاروں ٹائونز ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلز کے ناظمین کو بھی سالانہ کروڑوں روپے دیئے جاتے رہے۔ اس کے باوجود ضلعی حکومت کی کارکردگی سے شہری مطمئن نہیں۔ چار سالوں کے دوران پشاور کے ناظمین عوامی کاموں پر فنڈز لگانے کی بجائے اپنے دفاتر اور ٹھاٹھ باٹھ پر خرچ کرتے رہے۔ ضلعی حکومت کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا جا سکا۔ ہاں یہ ضرور ہوتا رہا کہ گلی بنائی کچھ عرصہ بعد توڑ پھوڑ کر پھر سے تعمیر کروا دی۔ آخر فنڈ لگانے کی کوئی وجہ بھی تو بتانی ہوگی۔
ضلع کونسل ہال کی تزئین و آرائش پر چار برسوں میں کروڑوں روپے لگائے گئے لیکن عوامی مفاد کیلئے چار سالوں میں کوئی قرارداد تک پیش نہ کی جا سکی۔ پشاور کی ضلعی حکومت کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چار سالوں میں صرف 48 اجلاس ہی منعقد ہوئے جبکہ لوکل گورنمنٹ آئین کے مطابق ہر ماہ سہ روزہ اجلاس کرنا لازم ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers