قومی

قبائلی اضلاع کی فورسز کا پولیس اختیارات لینے سے انکار

فاٹا کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع کی لیویز اور خاصہ دار فورس نے پولیس کے اختیارات لینے سے انکار کردیا۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ آرڈیننس میں مالی مراعات دئیے بغیر محض اختیارات تفویض کیے گئے جو قبول نہیں۔
خیبر پختونخوا میں ضم ہونیوالے قبائلی اضلاع کے 29 ہزار لیویز اور خاصہ داروں کو پولیس اختیارات سونپ دیئے گئے۔ گورنر شاہ فرمان نے آرڈیننس جاری کر دیا۔ خاصہ دار اور لیویز موجودہ ملازمتی شرائط پر ہی ڈیوٹی سر انجام دینگے۔ آرڈیننس کیخلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ فاٹا ریفارمز کے تحت لیویز کو پولیس میں ضم اور برابر کی مراعات کی تجویز شامل تھی مگر آرڈیننس کے ذریعے صرف اختیارات ہی سونپے گئے۔ خاصہ دار فورس کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ سابق آئی جی کے ساتھ پولیس کے برابر مراعات پر اتفاق ہوا تھا مگر اب ان کی حق تلفی کی جا رہی ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں لیویز اور خاصہ دار فورس کو پولیس میں ضم کرنے کیلئے اربوں روپے درکار ہونگے۔ لیویز اور خاصہ دار فورس کے جوان موجودہ شرائط پر ڈیوٹی سرانجام دینگے یا اپنے مطالبات تسلیم کرا لیں گے, یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا.

Comment here

Subscribers
Followers