قومی

کرتارپور راہداری کی تاریخ

کرتارپور میں تقریبا پانچ صدیوں سے قائم گوردوارہ دربار صاحب، سکھوں کیلئے انتہائی مقدس مقام ہے. یہاں کی مذہبی یاترا بھارت میں بسنے والے سکھوں کا وہ دیرینہ خواب ہے جو اب شرمندہ تعبیر ہونے جارہا ہے.
کرتارپور راہداری کا منصوبہ بھارت کے ڈیرہ بابا نانک صاحب کو پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور سے ملائے گا۔ راہداری کیلئے دونوں جانب کے سرحدی مقامات پر ساڑھے چار کلومیٹر سے زائد طویل شاہراہ بنائی جارہی ہے۔
اس راہدای کی پہلی بار تجویز انیس سو ننانوے (1999ء) میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورہ لاہور کے موقع پر آئی. مشرف دور حکومت میں بھی دونوں ممالک اس پر آمادہ ہوئے۔ پھر 2008ء کو پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں یہ معاملہ اٹھایا گیا۔ مذہبی اہمیت کی حامل اس راہداری کیلئے دونوں ممالک کے باسی سکھ اور دنیا بھر میں مقیم سکھ برادری بھی کوشاں رہی۔
پہلا واضح بریک تھرو اگست دو ہزار اٹھارہ (2018ء) میں وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری میں نوجوت سنگھ سدھو کی شرکت کے موقع پر ہوا. تب آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے سدھو کو مشہور جپھی ڈالی اور بتایا کہ پاکستان گرو ناننک کی 550 ویں سالگرہ کے موقع پر اس کا افتتاح کرنے کو تیار ہے۔ سدھو نے پیغام پہنچایا تو مودی سرکار کی کابینہ نے نومبر 2018ء میں راہداری منظوری دے دی۔ اس منصوبہ کے تحت بھارت سے سکھ یاتری بغیر ویزے کے کرتارپور آسکیں گے۔
بھارت نے اسکا سنگ بنیاد 26 نومبر کو رکھا جبکہ پاکستان نے 28 نومبر کو تعمیراتی کام کا افتتاح کیا۔ پاکستان اپنے حصے کا کام یکم نومبر تک مکمل کر کے بارہ نومبر کو بابا گروناننک کی 550 ویں سالگرہ کے موقع پر اسے فعال کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

Comment here

Subscribers
Followers