قومی

حکومتی عدم توجہ کے باعث فن پہلوانی ماضی کا حصہ بنتا جا رہا ہے

یونان کا قدیم کھیل کشتی برصغیر کی پہچان بنا تو پاکستان کے شہ زوروں نے دنیا بھر کے پہلوانوں کو چت کرنے کا کمال کر دکھایا مگر، حکومتی عدم توجہ کے باعث یہ کھیل ماضی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
فن پہلوانی مٹی سے محبت کا کھیل ہے. اس میں ہر پہلوان کو روز خود اکھاڑہ تیار کرنا ہوتا ہے۔ لنگوٹ کس کر ڈنڈ بیٹھکیں لگانا اور گھنٹوں کسرت کرنا پہلوانوں کیلئے معمول کی مشق کا حصہ ہوتا ہے. مغلیہ دور میں فن پہلوانی کو عروج حاصل رہا. پاکستان بنا تو لاہور فن پہلوانی کا مرکز بن گیا۔ لاہور شہر میں جہاں کبھی چھ سو اکھاڑے ہوتے تھے آج وہاں چوتھا اکھاڑہ ڈھونڈنا مشکل ہے. چھ ہزار پہلوانوں میں سے صرف چند پہلوان دیسی کشتی کی روایت کو نبھاتے نظر آتے ہیں۔
پہلوانوں کا کہنا ہے کہ روز کا خرچہ تین ہزار روپے سے کم نہیں. پہلے بھی یہ کھیل مہنگا تھا مگر اس وقت کھیل سے محبت کرنے والے افراد پہلوانوں کا خرچہ اٹھاتے تھے۔ مہنگائی، سرکاری عدم سرپرستی اور گلیمر کی کمی نے اس عوامی کھیل کو انتہائی محدود کر دیا ہے. حکومت فن پہلوانی کو سپورٹ کر کے روایتی کھیل اور مقامی ثقافت کو بچا سکتی ہے.

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share