قومی

حکومت کا عمل درآمد کی نگرانی کیلئے ماہرین کا ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ

حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ وزیراعظم کہتے ہیں پاکستان کسی بھی عسکری گروپ کو اپنی سر زمین استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ حکومت قومی لائحہ عمل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی داخلی سلامتی کی کمیٹی کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں ہوا. وزیر خارجہ، وزیر خزانہ، وزیر تعلیم، وزیر مذہبی امور اور وزیر داخلہ نے شرکت کی. آئی ایس آئی اور آئی بی کے ڈی جیز، صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز بھی موجود تھے۔
اعلامیے کے مطابق شرکا نے نیشنل ایکشن پلان پر پیش رفت اور ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کا جائزہ لیا۔ طے کیا گیا کہ ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ بنائے جائیں گے جو نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے اداروں میں رابطے کا کام کرے گا۔ اجلاس کے شرکاء نے کالعدم تنظیموں اور شدت پسند عناصر کے خلاف جاری کارروائیوں پر بھی غور کیا. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان قوم کے عزم کا عکاس، تمام سیاسی جماعتوں کا متففہ معاہدہ ہے جس پر عمل درآمد اولین ترجیح ہے. انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی، دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کیخلاف حالیہ قانونی اور انتظامی اقدامات کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کو دہرایا کہ کسی عسکریت پسند گروپ کو پاکستان میں کام نہیں کرنے دیا جائے گا. اپنی سر زمین دہشت گردی کی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers