قومی

پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 40ویں برسی

ذوالفقار علی بھٹو ایک عہد ساز شخصیت کے طور پر سیاست کے افق پر نمودار ہوئے اور چھا گئے. سندھ کی دھرتی سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کے دور میں پہلی مرتبہ وزیر تجارت بنے. 1963 میں وزیر خارجہ بنے تو اپنی صلاحیتوں کی دھاک بٹھا دی. صدر ایوب خان سے اختلافات ہوئے تو اپنی پارٹی بنانے کی ٹھان لی اور نومبر 1966 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی. روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تو عوام نے خوب سراہا اور اسی نعرے کی بنیاد پر ذوالفقارعلی بھٹو مقبول شخصیت بن گئے. سیاست کی منازل کامیابی سے طے کرتے ہوئے پھر وہ وقت بھی آیا کہ ذوالفقارعلی بھٹو ملک کے وزیراعظم بن گئے.
بھٹو نے عوام کے مسائل کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا، جس نے انہیں عوامی لیڈر بنا دیا. ذوالفقارعلی بھٹو نے سیاست کو عوامی رنگ بھی دیا. وہ جلسہ عام سے خطاب کرتے تو عوام کی نبض پر ہاتھ ہوتا. ذوالفقارعلی بھٹو کے کارناموں میں ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کو نمایاں مقام حاصل ہے.یہ وہ کام تھا جس نے آگے چل کر پاکستان کا دفاع نا قابل تسخیر بنا دیا. 1974 میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد بھی ان کی کاوشوں سے ہوا. بھٹو کے اس کارنامے نے پورے عالم اسلام کو ایک لڑی میں پرو دیا.
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستانیوں پر خلیجی اور دوسرے ممالک میں روزگار کے دروازے کھلے. بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے ان ممالک کا رخ کیا جس سے نہ صرف ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوا بلکہ عوام میں خوشحالی بھی آئی. بھٹو کے ناقدین ان کے کئی اقدامات پر اعتراض بھی کرتے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ وہ جمہوری حکمران تو تھے مگر ان کے مزاج میں آمریت غالب تھی. یہی وجہ تھی کہ ان کے کئی قریبی رفقا، محض معمولی اختلاف کی وجہ سے زیر عتاب رہے. ذوالفقارعلی بھٹو نے صنعتوں کو قومیانے کا فیصلہ کیا جس کے خاطر خواہ نتائج نہ نکل سکے. اس وجہ سے سرمایہ کاری کم ہوئی اور بنیادی اشیائے ضروریہ کے لیے باقاعدہ راشن بندی کرنا پڑی.
1977 میں ذوالفقار علی بھٹو نے قبل از وقت الیکشن کرانے کا اعلان کیا. ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگے اور ان کے خلاف ملک گیر تحریک شروع ہو گئی. معاملات اس نہج پر پہنچ گئے کہ اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل ضیا الحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو پابند سلاسل کر دیا گیا. ذوالفقار علی بھٹو پر نواب احمد خان قصوری کے قتل کا مقدمہ عدالتوں میں چلایا گیا جہاں سے انہیں سزائے موت سنائی گئی اور چار اپریل 1979 کو انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دے دی گئی.
ذوالفقار علی بھٹو کو دنیا سے گئے چالیس برس ہوگئے مگر ملکی سیاست پر ان کے گہرے نقوش آج بھی موجود ہیں.

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers