بین الاقوامی

موصل کی نصف نوجوان آبادی بے روزگار ہے، اقوام متحدہ

عراق کے شہر موصل میں دہشت گرد تنظیم داعش کو شکست ہوئے دو سال بیت گئے ہیں۔ اس خونریز لڑائی میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے تاہم یہ شہر آج بھی کھنڈر دکھائی دیتا ہے۔ شہر کی تعمیر نو نہ ہونے پر شہری اضطراب کا شکار ہیں۔
دریائے دجلہ کے مغربی جانب آباد قدیم شہر موصل عراق کی جان ہوا کرتا تھا مگر اب یہاں صرف کھنڈرات ہی باقی ہیں. اس شہر کی بیشتر گلیاں سنسان ہیں، خستہ حال عمارتیں گولیوں سے چھلنی دکھائی دیتی ہیں. لوگوں کا کہنا ہے کہ موصل میں ملبے تلے آج تک انسانی لاشیں اور دھماکا خیز مواد دفن ہے. شہر بھر کی دیواروں پر لوگوں، خصوصاً بچوں کو اشتہارات آویزاں کر کے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک چیز کو ہاتھ نہ لگائیں.
جولائی دو ہزار سترہ (2017) میں حکومتی فوج نے موصل پر دوبارہ قبضہ کیا تو اس وقت اس کو ایک بڑی فتح گردانا گیا تاہم اس سے یہاں کے رہنے والوں کو بہتر زندگی کے مواقع میسر نہیں آئے. اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق موصل کی نصف نوجوان آبادی بے روزگار ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers