قومی

عظمت رفتہ کا گواہ اور تاریخی روایات کا امین، مکھڈ شریف

دریائے سندھ کے کنارے پہاڑی پر واقع مکھڈ شریف اپنی پوری آب و تاب سے اپنی عظمت رفتہ کی داستان سنا رہا ہے. تاریخ دان مکھڈ شریف کو ایران کے شہر مشہد سے بھی موسوم کرتے ہیں. تاریخ کے مطابق یہ شہر ہندو تہذیب و تمدن کا مرکز رہا ہے جس کی نشانی دریا کے کنارے ابھی تک ایک قدیم مندر کی صورت موجود ہے. دریا کے کنارے پہاڑی میں قدیم دور کے غار بھی موجود ہیں. روایات کے مطابق گرمیوں کے موسم میں یہاں ہندو سادھو قیام کرتے تھے.
شہر کے ہر گھر کی طرز تعمیر اور دروازوں پر کیا گیا لکڑی کا کام اپنے پر شکوہ ماضی کی گواہی دے رہا ہے. خان آف مکھڈ کا تاریخی بنگلہ بھی اپنی مثال آپ ہے. یہاں کے رہائشی اپنے شہر کی تاریخ سے خوب واقف ہیں. سترہویں صدی عیسوی میں صوفی بزرگ مولانا محمد علی نے ایک عظیم کتب خانہ محمد علی مکھڈی کا سنگ بنیاد رکھا. اس کتب خانہ میں اردو، انگریزی، فارسی، پشتو اور سندھی کی اٹھارہ ہزار (18000) سے زائد کتابیں موجود ہیں.

Comment here

Subscribers
Followers