قومی

پائلٹ سیسل چوہدری کو بچھڑے سات برس بیت گئے

دفاع وطن کے لئے خدمات دینے والوں میں پاکستانی اقلیتیں کسی سے پیچھے نہیں. گروپ کیپٹن سیسل چودھری اس کی سب سے بڑی مثال ہیں جنہوں نے زمانہ جنگ اور امن میں وطن سے محبت کا حق ادا کیا. سیسل چوہدری کے بچوں کا کہنا ہے کہ والد نے صرف انسانیت کی خدمت اور پاکستان کے لیے مر مٹنے کا درس دیا۔
فلائیٹ لیفٹنٹ سیسل چوہدری بھی ایک ایسے ہی ہوا باز تھے جنہوں نے شجاعت کی ایک مثال قائم کی۔ انیس سو پینسٹھ (1965) کی جنگ میں سیسل چودھری نے دشمن پر اپنی بہادری کی دھاک بٹھا دی. سیسل چودھری نے بھارت کے دو ہنٹر طیارے مار گرائے. انہوں نے گیارہ ستمبر کو ونگ کمانڈر انور شمیم کے ہمراہ دشمن پر کامیاب حملہ کیا۔ پندرہ ستمبر کو زمینی رڈار سے نا کافی اطلاع کے باوجود سیسل چودھری نے ڈیڑھ سو میل تک دشمن کا تعاقب کیا اور ایک طیارہ مار گرایا.
انیس سو پینسٹھ اور انیس سو اکہتر کی جنگ میں سیسل چوہدری کی غیر معمولی جرات اور شجاعت پر حکومت پاکستان نے انہیں ستارہ جرات اور ستارہ بسالت کے اعزاز سے نوازا۔ سیسل چوہدری نے گروپ کیپٹن کے عہدے سے ریٹارڈ ہو کر سینٹ اینتھنی سکول کی بنیاد رکھی اور تعلیم کے فروغ کے لیے کام کیا۔ 13 اپریل 2012 میں عالم فانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی شجاعت اور جرات کے قصے آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔
پاکستانی پائلٹ سیسل چوہدری کے کارنامے تاریخ کا حصہ بن چکے لیکن ان کی مثال موجودہ دور میں بھی جواں جذبوں اور چٹانی ارادوں کو تقویت بخشتی ہے۔

Comment here

Subscribers
Followers