بزنسقومی

پنجاب حکومت نے شتر مرغ کے کاروبار میں سرمایہ کاری سے منہ پھیر لیا

پنجاب حکومت نے شتر مرغ کے کاروبار میں سرمایہ کاری سے منہ پھیر لیا۔ سبسڈی ختم ہونے اور سرکاری پالیسی نہ بننے سے بھاری سرمایہ کاری نقصان کے دھانے پر ہے اور فارمر شدید پریشانی سے دو چار ہیں۔
ہر حکومت آتے ہی سرمایہ کاری کے راگ الاپتی ہے۔ کاروباری افراد میدان میں اترتے ہیں تو حکومتیں پالیسی بدل دیتی ہیں اور خسارہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے. ایسی ہی کہانی شتر مرغ فارمنگ کی گذشتہ حکومت نے شتر مرغ کی فارمنگ بڑھانے کے لیے ساڑھے چودہ ملین کی سبسڈی جاری کی۔ شتر مرغ فارمنگ کے کاروبار سے وابستہ راجہ طاہر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شتر مرغ فارمنگ کے حوالے سے اصل مسئلہ شتر مرغ کے گوشت کی مارکیٹنگ اور واضح سرکاری پالیسی نہ ہونا ہے۔
ڈی جی لائیو سٹاک ڈاکٹر منصور کا کہنا ہے کہ محکمے نے شتر مرغ کی انڈسٹری کو پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے، اب پرائیویٹ سیکٹر اپنا کردار ادا کرے۔ پنجاب میں اس وقت چار سو سے زائد شتر مرغ کے فارم ہیں. مالکان اس سیکٹر میں حکومتی پالیسی کے منتظر ہیں۔
گذشتہ ادوار میں حکومتی سرپرستی کی وجہ سے شتر مرغ فارمنگ کو فروغ حاصل ہوا مگر موجودہ حکومت نے تمام رعایتیں واپس لے لیں جس سے شتر مرغ کے فارمر پریشان ہیں، جنہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فارمرز کو دی جانے والی سبسڈی بحال کرے.

Comment here

Subscribers
Followers