قومی

خیبرٹیچنگ ہسپتال پشاور میں ڈاکٹر پر وزیرصحت کے گارڈز کے مبینہ تشدد کا معاملہ حل ہوگیا

خیبرٹیچنگ ہسپتال پشاور میں ڈاکٹر پر وزیرصحت کے گارڈز کے مبینہ تشدد کا معاملہ حل ہوگیا،ارکان اسمبلی اور پولیس حکام کے مابین مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے زیر حراست ڈاکٹروں کو بھی رہا کردیا۔ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ڈاکٹروں نے یونیورسٹی روڈ کو تو کھول دیا ہے تاہم سینئر ڈاکٹر پر مبینہ تشدد کے خلاف آج پورے صوبے میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی نگہت اورکزئی، اے این پی کے سردار حسین بابک، اور ایم ایم اے کے عنایت اللہ نے کئی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات میں اپنا کردار ادا کیا، پولیس کے اعلیٰ حکام نے ڈاکٹروں پر تشدد کی انکوائری اور سیکریٹری صحت فاروق جمیل نے ڈاکٹروں کے مطالبات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، میڈیکو لیگل رپورٹ کے بعد ڈاکٹروں کی درخواست پر مقدمے کے اندراج کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جس کے احتجاجی ڈاکٹروں نے یونیورسٹی روڈ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا ڈاکٹرز کونسل نے وزیر صحت کے اقدام اور مجوزہ ہیلتھ اتھارٹیز کے خلاف آج صوبے کے تمام ہسپتالوں میں احتجاج کا اعلان کیا ہے، اس سے قبل پولیس نے مذاکرات کیلئے آئےڈاکٹروں کوتھانے میں مبینہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے کپڑے پھاڑ دیئے تھے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers