قومی

کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے اہلخانہ اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقات

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے ن لیگ میں نچلی سطح پر تنظیم سازی کے لیے ہدایات جاری کر دیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کے لئے آنے والوں کا کہنا تھا کہ حکومت ملک چلانے میں نا کام ہو گئی ہے۔ اگر عمران خان کو نکال دیا جائے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
لاہور کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ان کی بیٹی مریم نواز، والدہ بیگم شمیم، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ، جاوہد ہاشمی اور اہلخانہ سمیت پارٹی رہنماؤں نے ملاقات کی۔
رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نالائق اعظم کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ تمام لیڈر شپ سر جوڑ کر بیٹھے ورنہ ملکی معیشت ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے۔ ہم نے ملکی معیشت کی بہتری کے لئے میثاق معیشت کی پیش کش کی ہے اور دوبارہ کر رہے ہیں۔ احتجاج کے باعث ملکی معیشت مزید نیچے آ جائے گی۔
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ عوام کو تبدیلی کی سزا اب بھگتنی پڑے گی. نعروں کے ساتھ ڈالر کا ریٹ واپس نہیں آئے گا. آنے والے دنوں میں ن لیگ مزید متحرک ہو گی. ہم نے حکومت کو کیا گرانا ہے یہ اپنے وزن سے خود ہی گر جائے گی۔
موٹر سائیکل پر جیل آنے والے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ پٹرول اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ اب موٹر سائیکل ہی مناسب ہے۔ موجودہ حکومت کو گرانے کے حق میں نہیں ہوں۔ عمران خان خود ہی تھک کر بھاگ جائیں گے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کوٹ لکھپت جیل میں رہنماؤں سے ملاقات کے دوران پارٹی کو نچلی سطح تک فعال کرنے کا ٹاسک رانا ثناء اللہ کو سونپ دیا.

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers