قومی

رواں سال فطرانہ کم از کم 100روپے فی کس مقرر

دین اسلام میں فطرانے کو ضرورت مندوں کی عید کی خوشیوں میں شمولیت کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ نماز عید الفطر کی ادائیگی سے قبل فطرانہ کی ادائیگی واجب ہے. رواں سال صدقۂ فطر کم از کم ایک سو (100) روپے فی کس ادا کرنا ہو گا۔
فطرانہ ایک زکوٰۃ یا صدقہ ہے جو رمضان المبارک کے روزے ختم ہونے پر واجب ہوتا ہے. نماز عید سے قبل ادا کر دیا تو یہ فطرانہ جب کہ نماز عید کے بعد عام صدقہ ہو گا۔ گندم کا نصاب وزن کے لحاظ سے دو کلو جب کہ لوگ اپنی مالی حیثیت کے لحاظ سے اتنی ہی مقدار میں کھجور، کشمش اور مُنقہ بھی دے سکتے ہیں.
شریعت کے مطابق فطرانہ نماز عید الفطر سے قبل ادا کر دینا چاہیے۔ گھر میں موجود افراد خواہ مہمان ہی ہوں ان کا فطرانہ گھر کے سربراہ کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ جس نے سورج غروب ہونے سے قبل شادی کی یا پھر اس کے ہاں ولادت ہوئی یا پھر اسلام قبول کر لے تو اس کا بھی فطرانہ ہو گا۔
روزہ دار کے روزہ کو پاک صاف کرنے اورغریب، مساکین، یتیم، فقیر، ضرورت مند اور محتاج کی خوراک کے لیے فطرانہ فرض ہے۔ صدقۂ فطر سے عید کے دن ناداروں اور مسکینوں کی خوراک و پوشاک کا انتظام ہو جاتا ہے جس سے وہ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers