بین الاقوامی

انتہا پسند بھارتی حکومت کا مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں سے بھی امتیازی سلوک

بھارت میں ہندو انتہا پسند حکومت کے ہاتھوں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں کو بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ گورو ارجن دیو جی کی برسی منانے کے لیے پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کو بھارتی حکام نے بارڈر پر روک لیا۔ سکھ یاتریوں نے مودی سرکار کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔
مودی سرکار پاکستان دشمنی میں اپنی ہی عوام کے مذہبی جذبات سے کھیلنے لگی۔ بھارتی حکومت کے خلاف نعرے لگانے والے یہ وہ سکھ یاتری ہیں جنہیں پاکستانی ویزہ ملنے کے باوجود آج مودی سرکار نے پاکستان جانے سے روک دیا۔
سکھوں کے پانچویں گورو ارجن دیو جی کی سالانہ برسی کی تقریبات کو جوڑ میلہ بھی کہا جاتا ہے۔ تقریبات 16 جون سے 20 جون تک گوردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال میں منائی جائیں گی جہاں دنیا بھر سے سکھ یاتری شرکت کے لئے پاکستان آ رہے ہیں۔
بھارت نے سکھ یاتریوں کو واہگہ بارڈر کراس نہیں کرنے دیا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے 500 سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کئے گئے تھے۔ بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو اٹاری سٹیشن پر امیگریشن کلیئرنس نہیں دی گئی۔ سکھ یاتری بھارت کے مختلف شہروں سے پاکستان آنے کے لئے اٹاری پہنچے تھے۔
پاکستان کی جانب سے ان یاتریوں کے لیے خصوصی ٹرین کا انتظام کیا گیا تھا. یاتریوں کو لانے کے لئے پاکستان ریلوے کی جانب سے دو دفعہ ٹرین کی کال کی گئی لیکن اٹاری سٹیشن پر بھارتی حکام نے دونوں دفعہ ٹرین رکوا دی۔
مودی سرکار کے اس متعصبانہ حرکت پر سکھ گردوارا پر بندھک کمیٹی کے رہنما سردار تارا سنگھ نے سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

Comment here

instagram default popup image round
Follow Me
502k 100k 3 month ago
Share