قومی

قومی اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ، بجٹ پر بحث شروع ہی نہ ہو سکی

قومی اسمبلی کا اجلاس پھر ہنگامے کی نذر ہو گیا۔ اپوزیشن اور حکومتی ارکان ایک دوسرے پر تنقیدی وار اور نعرے بازی کرتے رہے۔ سپیکر اسد قیصر اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی کئی کوششوں کے باوجود بجٹ پر بحث شروع ہی نہ ہو سکی۔
قومی اسمبلی کے صبح سیشن کے آغاز میں اپوزیشن والوں نے گرفتار آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان سر پر اٹھا لیا۔ حکومتی اراکین بھی چپ نہ رہے، جوابی نعرے لگاتے رہے. سپیکر اسد قیصر کو اسمبلی اجلاس دوپہر تک ملتوی کرنا پڑا۔ نماز جمعہ کے بعد اسمبلی اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت شروع ہوا تو انہوں نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو بجٹ پر بحث شروع کرنے کیلئے ڈائس دیا. حکومتی ارکان نے اس پر اعتراض کیا تو پھر ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ بار بار اٹھک بیٹھک سے تنگ شہباز شریف نے قاسم سوری کو شکوہ کر دیا کہ کیا وہ ان کی کمر کی ورزش کرانا چاہتے ہیں۔ جے یو آئی (ف) والوں نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا. ایوان چلانے کیلئے پنتالیس منٹ کی سر توڑ کوشش نا کام ہونے پر قاسم سوری اجلاس پیر تک ملتوی کرنے پر مجبور ہو گئے. اس کے بعد میں بھی ایوان میں موجود حکومت اور اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی جاری رہی۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers