بین الاقوامی

مصر: معزول منتخب صدر محمد مرسی کی قاہرہ میں تدفین کر دی گئی

مصر کے معزول کیے گئے منتخب صدر محمد مرسی کی قاہرہ میں تدفین کر دی گئی۔ حکومت نے جنازے میں خاندان کے لوگوں کے سوا کسی کو شریک ہونے کی اجازت نہیں دی۔ مرسی کی جماعت اخوان المسلمین نے سابق صدر کی موت کو قتل قرار دیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے مرسی کو شہید قرار دیا ہے۔ 67 سالہ محمد مرسی گزشتہ روز مصر کی عدالت میں پیشی کے دوران دل کے دورہ سے انتقال کر گئے تھے۔
محمد مرسی جون 2012 میں ہونے والے انتخابات میں اخوان المسلمین کو کامیابی ملنے پر صدر منتخب ہوئے۔ صرف ایک ہی برس کے بعد تین جولائی 2013 کو فوج نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ مرحوم کے بیٹے احمد مرسی نے فیس بک پیج پر اعلان کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے والد کی میت آبائی علاقے لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور ان کے والد کی تدفین قاہرہ کے علاقے نصر سٹی کی کر دی گئی ہے۔ جنازے میں صرف اہل خانہ کو شرکت کی اجازت دی گئی۔
محمد مرسی کا خاندان طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ مرسی کو ہائی بلڈ پریشر اور زیابیطس جیسے امراض کا علاج کروانے کے لیے مناسب طبی سہولیات مہیا نہیں کی گئیں اور انھیں مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔ اخوان المسلمین نے محمد مرسی کی موت کو ’قتل‘ قرار دیتے ہوئے عام لوگوں سے محمد مرسی کے جنازے میں شریک ہونے کی اپیل کی تھی۔ دنیا بھر میں مصری سفارت خانوں کے باہر احتجاج کی کال بھی دی ہے۔
محمد مرسی 1951 میں دریائے نیل کے کنارے واقع شرقیہ صوبے کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ 1970 کے عشرے میں قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ پی ایچ ڈی کے لیے امریکہ چلے گئے۔ وطن واپسی پر وہ شعبہ تدریس کے ساتھ اخوان المسلمین کے پلیٹ فارم سے سیاسی طور پر بھی متحرک ہوئے۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers