قومی

اردو ادب کے عظیم مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی آج پہلی برسی

اپنی منفرد طرز تحریر اور انداز بیان سے لاکھوں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ سجانے والے معروف مزاح نگار، مشتاق احمد یوسفی کو دنیا سے رخصت ہوئے ایک سال بیت گیا۔
ستمبر 1921ء کو بھارت میں پیدا ہونے والے مشتاق یوسفی پیشہ کے اعتبار سے تو بینکار تھے لیکن ملک کے لئے ادبی خدمات ان کی اصل پہنچان بن گئیں. چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت، آب گم شام شعر یاراں جیسی مایہ ناز تصانیف کے مصنف احمد یوسفی مزاح نگاری میں یگانہ مثال تھے.
زبان و بیان سے لے کر تاریخ اور تصوف پر گہری نظر رکھنے والے مشتاق یوسفی کو پشتو، ہندکو، پنجابی اور فارسی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا. مشتفاق یوسفی کئی بنکوں کے سربراہ رہے اور پاکستان بینکنگ کونسل کے چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
ملک کے صف اوّل کے مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کو ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور پاکستان کے سب سے بڑے ادبی اعزاز کمال فن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
مشتاق احمد یوسفی نے جو مزاح تخلیق کیا وہ نہ صرف عہد ساز ہے بلکہ اب تک زنداں و جاویداں ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers