بین الاقوامی

امریکی صدر نے آخری لمحے ایران پر حملے کا حکم واپس لے لیا

امریکی صدر نے ایران پر فوجی حملہ کرنے کی اجازت دے کر آخری وقت پر فیصلہ واپس لے لیا. لڑاکا جہاز فضاء میں اور بحری جہاز سمندر سے کروز میزائل داغنے کے لئے تیار تھے. امریکی حکومت نے آخر میں ہنگامی حکم جاری کیوں کیا؟
امریکہ اور ایران کے مابین آج جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی ہے۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جمعرات کے روز امریکی ڈرون گرائے جانے کے ردعمل میں اسی شام سات (7:00) بجے وائٹ ہاوس میں جاری اہم بیٹھک میں فیصلہ ہو چکا تھا کہ جمعہ کے روز طلوع آفتاب سے قبل ایران پر فوجی حملہ کیا جائے گا.
امریکی فوجی حملے میں ایرانی ریڈار سٹیشنز اور میزائل لانچرز کو نشانہ بنانے کا پلان کیا گیا تھا۔ صدارتی حکم ملتے ہی امریکی لڑاکا جہاز ایران پر حملے کے لئے فضا میں اڑان بھر چکے تھے. امریکی بحری جہاز بھی کروز میزائل داغنے کے لئے تیار تھے لیکن حملے سے چند لمحے قبل وائٹ ہاوس سے حکم آیا کہ ابھی حملہ نہیں کرنا.
امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون اور حزب اختلاف ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ایران پر فوجی کارروائی نہ کرنے کے لئے ٹرمپ پر دباو ڈالا ہے. دوسری جانب امریکی مشیر برائے سیکیورٹی جان بولٹن، وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہیسپل حملے کے حق میں تھیں.
امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ حملے کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ امریکی مسافر جہازوں کو ایرانی فضائی حدود سے دور رہنے کا ہنگامی حکم جاری کیا گیا ہے.

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers