قومی

عزیر بلوچ کا اعترافی بیان، پی پی پی رہنماؤں کے لئے خطرہ

ملک سے غداری اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ملزم عزیر بلوچ نے اپنے اہل خانہ کی جان کو خطرے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ملزم کو ملٹری کورٹ سے سزا کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ ہو سکتا ہے۔
لیاری گینگ وار کے سرغنہ ملزم عزیر بلوچ نے دو ہزار سولہ (2016) میںٓ جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کے سامنے تہلکہ خیز انکشافات کئے تھے، جس کی کاپی آپ نیوز نے حاصل کر لی.
ایک سو چونسٹھ کے تحت ریکارڈ ہونے والے بیان میں عزیر بلوچ نے ایرانی انٹلیجنس سے روابط کا اعتراف کیا۔ کراچی میں دہشت گردی، قتل، زمینوں پر قبضے سمیت سنگین جرائم میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور، رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل سمیت دیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں کے ملوث ہونے اعتراف کیا.
عزبر بلوچ نے بیان میں ایرانی اینٹلی جینس افسران کو کراچی کی اہم عسکری تنصیبات کے نقشے دیے کا بھی اعتراف کیا جس کے بعد ملزم کا ملٹری ٹرائل کا فیصلہ کیا گیا. قانونی ماہرین کے مطابق عزیر بلوچ نے جن افراد کا نام لیا ہے انہی الزامات پر ان کا بھی ٹرائل ہو سکتا ہے.
ملزم نے مزید اعتراف کیا کہ فشریز سے ماہانہ ایک کروڑ بھتہ فریال تالپور کو جاتا تھا. سابق وزیر اعلی ٰقائم علی شاہ، فریال تالپور اور آصف زرداری کے کہنے پر اس کے سر کی قیمت ختم ہوئی. کراچی آپریشن کے دوران فریال تالپور نے اسے اسلحہ اور بارود چھپانے کا ٹاسک دیا. آصف زرداری اور اویس مظفر ٹپی کو شوگر ملوں پر قبضہ میں مدد دی. عزیر بلوچ نے استدعا کی ہے کہ اعترافی بیان کے بعد اس کے اہل خانہ کو شدید خطرہ ہے انہیں تحفظ دیا جائے.
قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ ملک سے غداری اور دہشت گردی کے جرم میں عزیر بلوچ کی سزا آصف زرداری اور فریال تالپور کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے.

About Author

Comment here

Subscribers
Followers