بین الاقوامی

بھارتی انتہا پسندی کی بازگشت اب لوک سبھا میں بھی سنائی دینے لگی

مودی سرکار کی پالیسیاں بھارت کو فاشزم اور تباہی کی جانب دھکیل رہی ہیں. دنیا بھر سے تو یہ آوازیں اٹھ ہی رہی تھیں لیکن، بھارتی انتہا پسندی کی بازگشت اب لوک سبھا میں بھی سنائی دینے لگی. کانگریس کی رکن اسمبلی ماہوا مترا نے اپنی پہلی تقریر میں مودی سرکار کو خوب آڑے ہاتھوں لیا.
مشرقی بنگال سے پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہونے والی ماہوا مترا نے لوک سبھا میں اپنی پہلی تقریر میں مودی سرکار کی خوب درگت بنائی. انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی غلط پالیسیاں ملک کو فاشزم کی جانب دھکیل رہی ہیں. ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مقبول ہوتی قومیت پسندی، محض سطحی اور نفرت پر مبنی ہے، جس کے نتیجے میں عوام میں نفرت اور تنگ نظری کا بیج بویا جا رہا ہے. ماہوا مترا نے کہا کہ ہمیں نام نہاد کالے بھوت سے ڈرایا جا رہا اور بھارتی افواج کو ایک شخص کے مفادات کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے. ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں غریب آدمی سے بھارتی شہری ہونے کے ثبوت اور کاغذات طلب کئے جاتے ہیں لیکن وزراء اپنے تعلیم یافتہ ہونے کی سند نہیں دے سکتے.
بھارتی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مظلوم مسلمانوں کو سر عام تشدد کے بعد مارا جانا، قانون کے منہ پر طمانچہ ہے. انہوں نے جھاڑ کھنڈ میں مسلمان نوجوان پر تشدد اور قتل کا معاملہ بھی لوک سبھا میں اٹھایا. چوبیس سالہ تبریز انصاری پر ہندو انتہا پسندوں نے چوری کے الزام میں تشدد کیا اور اپنے مذہبی کلمات ادا کرنے پر مجبور کرتے رہے. تبریز انصاری کو جب پولیس کے حوالے کیا گیا تو متعصب پولیس نے بھی اسے ہسپتال لے جانے کی بجائے جیل میں بند کر دیا جس کے نتیجے میں وہ جان کی بازی ہار گیا.
بھارتی رکن پارلیمنٹ ماہوا مترا نے اپنی تقریر میں معروف سکالر ڈاکٹر لارنس برِٹ کے لکھے ہوئے آرٹیکل میں سے میں سے سات نکات کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ بھارت واقعی تباہی کے راستے پر گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے جب مودی سرکار کو اپنی آنکھوں پر بندھی تعصب کی پٹی کھولنا پڑے گی۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers