قومی

کسان مایوس، پیداواری لاگت میں اضافے پر تشویش

حکومت نے گیس کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ مصنوعی کھاد بنانے والی فیکٹریوں کیلئے باسٹھ فیصد (%62) اضافے سے یوریا کی فی بوری قیمت میں دو سو دس (210) روپے اضافہ ہو گیا.
حکومت پاکستان کی جانب سے زراعت کے شعبے میں ریلیف کے دعوے محض دعوے ہی رہے مگر کسانوں کے مسائل میں اضافہ کرنے میں ذرہ بھی دیر نہ کی اور کھاد میں استعمال ہونے والی گیس کو مہنگا کر دیا. کراپ پروٹیکشن ایسوسی ایشن پاکستان کا کہنا ہے کہ سارا بوجھ کسان پر ہی پڑے گا. سابق حکومتوں کی پالیسی سے مایوس کسان تبدیلی سرکار کی کسان کش پالیسیوں سے بھی مایوس ہونے لگے ہیں. کسانوں کا کہنا ہے جو بھی قیمت میں اضافہ ہو گا کسان کی جیب سے ہی نکالا جائے گا.
کھاد کی قیمت پہلے ہی بہت زیادہ ہے جس سے فصلوں کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے اب مزید قیمت بڑھا کر کسانوں کے مسائل میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے. گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے نوٹیفکیشن کے فوری بعد مارکیٹ میں یوریا کھاد کی فی بوری قیمت 210 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے.

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers