بزنسبین الاقوامیقومی

پاکستان کو آئی ایم ایف سے پہلی قسط کل ملے گی

وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کو آئی -ایم-ایف سے اپنے معاہدے کے مطابق پہلی قسط کل تک ملنے کا امکان ہے جو کہ ایک ارب ڈالر پر مشتمل ہو گی- جب کہ باقی کی رقم آنے والے ۳ سالوں میں ۳ قسطوں میں پاکستان کو موصول ہوگی۔ ۲۰۱۸ میں حکومت میں آنے سے پہلے پی۔ٹی۔آئی اور عمران خان کا موءقف یہی تھا کہ وہ آئی -ایم-ایف کہ پاس نہیں جائینگے لیکن بقول پی۔ٹی۔آئی حکومت سنمبھالنے کے بعد انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ معاشی بحران کے پیش نظر انہیں آئی-ایم۔ایف کا بیل آوٹ پیکیج لینا ہو گا۔ اس سلسلے میں پہلی کوشش سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے ستمبر ۲۰۱۸ میں کی لیکن آئی کی سخت شرائط کے باعث مزاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد پاکستان نے مالی مدد کے لیے دوست ممالک چائنہ،سعودی، ملائیشیا سے رابطہ کیا- انویوسٹمنٹ اور ادھار تیل کی شکل میں پاکستان کی مالی معاونت تو ہوئی لیکن زرمبادلہ زخائر پاکستان کے تاحال کم رہے۔ اس کے بعد مئی ۲۰۱۹ میں مزاکرات کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا جب آئی۔ایم،ایف کا وفد پاکستان آیا اور اس نے بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے کی سفارش کی اور آنے والے بجٹ میں مزید ٹیکس بڑھانے کو بولا-

آئی۔ایم۔ایف کی یہ سفارشات تو وزیراعظم عمران خان نے رد کر دی لیکن مزاکرات کے اگلے راونڈ میں معاہدہ طے پا گیا۔ جس کے ٰعوض آئی۔ایم۔ایف ۲۰۲۳ تک پاکستان کو ٦ ارب ڈالر دے گا۔ یہ معاہدہ کن شرائط پہ طے پایا گیا۔ حکومتی ترجمان نے عوام کو اس سے آگاہ تونہیں کیا لیکن جون میں پیش کیے جانے والے بجٹ میں آئی۔ایم۔ایف کی شرائط کے اثرات نمایاں نظر آ رہے ہیں۔جبکہ دوسری جانب آپوزیشن نے شروع ہی سے آئی۔ایم۔ایف سے بیل آوٹ پیکیج لینے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کو یو۔ٹرن قرار دے کرحکومت کی معاشی پالیسی ناکام ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ جبکہ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت نے آئی،ایم۔ایف کے پاس جانے میں بہت دیر کی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے معاشی حالات مزید بگڑے ہیں- حکومت کے مطابق ایک ارب ڈالر کی یہ قسط ملنے سے پاکستان کے زرمبادلہ زخائر بڑھیں گے جس سے معیشیت مزید مستحکم ہو گی اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مظبوط ہو گا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers