بین الاقوامی

انٹرا افغان امن کانفرنس

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دو روزہ انٹرا افغان امن کانفرنس ختم ہو گئی ۔ افغانستان میں اسلامی اُصولوں اور انسانی حقوق کے احترام، مذاکرات جاری رکھنے، فریقین کی جانب سے سخت بیانات نہ دینے اور پرتشدد واقعات میں کمی پر اتفاق کیا گیا-حطے میں امن کی راہ میں یہ ایک بڑی پیشرفت ہے کیونکہ چند روز قبل افغانستان کے شہر غزنی میں ہونے والے دھماکے میں ٦۰ بچے جاں بحق ہو گئے تھے جس کے بعد یہ سوچا جا رہا تھا کہ افغان طالبان مزاکرات میں ایک ڈیڈلاک آ جائے گا مگر آج دوحہ میں دونوں فریقین کے درمیان عوامی مقامات اور عوامی فلاحی منصوبوں پہ کسی قسم کا حملہ نہ کرنے پر اتفاق راِئے طے پایا گیا ہے- ،، قطر اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں ہوئے دو روزہ مذاکرات کو ملک میں اٹھارہ برس سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے،،افغان میڈیا کا کہنا ہے حکومتی وفد میں شامل ارکان کی رائے ہے کہ اظہار رائے کی آزادی ، خواتین اور انسانی حقوق سے متعلق طالبان کی سوچ میں مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔

اس سے قبل طالبان،ان کے بقول کٹ پتلی افغان حکومت سے براہ راست مزاکرات کرنے کے لیے سنجیدہ نہ تھے مگر آج دوحہ میں ہونے والے مزاکرات میں طالبان میں ایک مثبت تبدیلی نظر آئی ہے-جب سے پچھلے سال امریکہ نے طالبان سے مزاکرات کا عمل شروع کیا ہے یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ افغان حکومت کے نماِئندے اور طالبان کے نماِئندے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہو کر سنجیدگی سے مزاکرات کر رہے ہیں- اس عمل سے مزاکرات میں پیدا ہونے والے ڈیڈلاک کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں ہیں- خطے میں امن لانے کی لیے افغانستان میں امن ہونا بہت ضروری ہے- اور اسی لیے پاکستان نے امریکہ، افغان اور طالبان مزاکرات میں قلیدی کردار ادا کیا ہے-جنگ کے خاتمے سے افغانستان ہمسایہ ممالک سے کھل کر تجارت کر سکے گا- جس سےخطے کے مٰعاشی حالات میں بہتری آئے گی- اور امن ہی سے خطے میں لوگوں گے انسانی حقوق پورے اوربنیادی مسائل حل ہونگے- آج دوحہ میں ہونے والی یہ ملاقات ۱۸ سالہ جنگ کے خاتمے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوگی-

Comment here

Subscribers
Followers