بزنسبین الاقوامیقومی

آئی- ایم- ایف کی پہلی قسط پاکستان کو موصول

آئی-ایم-ایف نے بیل آوٹ پیکیج کی تحت پاکستان کو پہلی قسط ادا کر دی- اسٹیت بینک آف پاکستان نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ پاکستان کو پہلی قسط کی مد میں 99 کڑور 14 لاکھ ڈالر پاکستان کو موصول ہو گئے ہیں-اس قسط کے حصول سے پاکستان کے زرمبادلہ زخائر میں اظافہ ہوگا-گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کیلئے 6ارب 20 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری دی گئی تھی- پاکستان کویہ قرضہ 39قسطوں میں فراہم کیا جائے گا-جس کی پہلی قسط پاکستان کو مل گئی ہے- حکومت نے آئی-ایم-ایف کے اس بیل آوٹ پیکیج کو معیشیت کے لیے بہت اہم قرار دیا ہے کیونکہ معاشی مشیر اور حکمت عملی بنانے والے اپنی عوام دوست پالیسیوں سے معشیت کو دوبارہ اپنے پیروں پہ کھڑا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں-

سوموار کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی-ایم-ایف کے نمائندہ ارنیسٹو رمیریز کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ بیل آوٹ پیکیج دینے کا مقصد ملک کی معیشیعت اور اداروں مں استحکام لانا ہے-یہ حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت پاکستان ٹیکس میں دی جانے والی مراعات اب ختم کرے-آئی-ایم-ایف کی جانب سے حکومت کے ساتھ طے کردہ شرائط کے مطابق یہ لازمی ہے کہ پاکستان معاشی نظم وظبط کا مظاہرہ کرے گا- ملک کے ٹیکس نظام کو لے کر ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو ٹیکس اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا- چونکہ 57 فیصد ٹیکس ریوینیو صوبوں کو دیا جاتا ہے اس لیے ےہ ان پر لازم ہے کہ وہ5.5 ٹریلین ٹیکس اکٹھا کرنے میں وفاق کی مدد کریں-
آئی-ایم-ایف کی ےہ قسط اور پورا پروگرام پاکستان کی اکانامی پہ مذید بوجھ ڈالے گا-آئی-ایم-ایف کی رپورت کے مطابق حکومت بجلی کے ٹیرف میں مزید اظاافہ کرنے پر آمادہ ہو گئی ہے-پچھلے ہفتے قطر سے ملنے والی 500 ملین ڈالر اور آج کی اس قسط نے پاکستان کے قرظوں میں مزید بوجھ ڈالا ہے- بجٹ کا خسارہ جی-ڈی-پی سے 7 فیصد بڑھ چکا ہے اور ذرمبادلہ ذخائر 8 ارب ڈالر سے کم ہیں-پچھلا قرظہ اتارنے کے لیے حکومت نیا قرظہ لینے پر مجبور ہے جس کا بوجھ اداروں اور عوام پر پڑے گا-

Comment here

Subscribers
Followers