بزنسبین الاقوامی

بھارت اور امریکہ کے تجارتی معاملات میں کشیدگی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دو ہفتوں میں بھارت پر دوسرا ٹویٹر حملہ، بولے بھارت کی جانب سے امریکی درآمدی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنا قبول نہیں- امریکی صدر نے یہ بیان دیتے ہوئے بھارت کوآڑے ہاتھوں لیا اور بولے کہ یہ ہرگز قبول نہیں کہ بھارت امریکی اشیاء پہ بھاری ٹیکس آئد کرے- تجارت کہ معاملے میں دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھتی چلی جا رہی ہے-امریکہ نے بھارت کو تجارت کی فہرست سے بطور پسندیدہ ملک خارج کیا تو بھارت نے بھی امریکہ کو آنکھیں دکھانا شروٰع کر دیں-بھارت نے امریکی حکومت کی جانب سے تجارتی اشیاء پر ڈیوٹی کی مد میں دی جانے والی مراعات واپس لینے کے جواب میں اٹھائیس امریکی اشیاء پر ٹیرف بڑھایا تو ٹرمپ غصے میں آ گئے، انہوں نے کہا بھارت کافی عرصہ فائدہ اٹھاتا رہا ہے، لیکن اب یہ نا قابل قبول ہے۔ ستائیس جون کو بھی امریکی صدر نے جی ٹوینٹی سمٹ سے پہلے محصولات بڑھانے کا معاملہ بھارتی وزیراعظم مودی کے سامنے رکھنے کی ٹویٹ کی تھی اور ملاقات میں یہ بھی طے پایا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے وزیر کامرس بہت جلد ملاقات کر کے تجارتی معاملات حل کریں گے مگر بحارت کی جانب سے 28 اشیاء پہ ٹیکس لگنے سے حالات کشیدہ ہو گئے ہیں-

بھارت نے جن مصنوعات پر ڈیوٹیاں عائد کی ہیں ان میں بادام ، پھل اور خشک میوہ جات بھی شامل ہی-اور پہلے ہی مشہور امریکی موٹر بائیک ہارلے ڈیوڈسن پر50 فیصد ڈیوٹی بڑھانے پر ٹرمپ بھارت سے خاصے ناراض ہیں- جی ایس پی پروگرام کی مطابق بھارت تجارت مین امریکہ کے لیے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے- دوسری جانب یو- کے ایمبیسیڈر کے ساتھ تناعذعے نے ٹرمپ کو بوکھلاہٹ کا شکار بنا دیا ہے- گذشتہ سال امریکہ نے بھارت سے برآمد کی جانے والی سٹیل اور ایلومینیم مصنوعات پر بھاری ڈیوٹی عائد کی تھی جس کی وجہ سے بھارتی صنعتکاروں کو کافی نقصان ہوا تھا- دوسری جانب امریکہ نے چائنہ کے ساتھ بھی مزید تجارتی معاملات کشیدہ بنالیے ہیں چائنہ نے امریکہ کے تقریبا تمام الیکٹرانک مصنوعات کا بائکاٹ کیا ہے- ایسے میں انڈیا کے ساتھ تجارتی کشیدگی امریکی معیشیت کے لیے بہت بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے-

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers