قومی

ایک اور ٹرین حادثہ

لاہور سے کوئٹہ جانے والی ٹرین راستے میں رحیم یارخان کے قریب پٹری پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی – 11 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 60 کے قریب افراد زخمی ہیں-پاک فوج کے جوان امدادی کارروائی کے لیے بروقت پہنچ گئے- زخمیوں کو صادق آباد اور رحیم یار خان کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے منتقل کر دیا گیاجبکہ میتوں کی شناخت کر کے ان کو ورثاء کے حوالے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے-
حادثہ تقریبا صبح ساڑھے 4 بجے کے قریب پیش آیا – مال گاڑی سے ٹکر کھا کر ٹرین کی 4 بوگیاں الٹ گَئیں جبکہ ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے- وزیر ریلوے شیخ رشید نے اپنے بیان میں بولا ہے کہ بظاہر حادثہ انسانی غلطی کی وجہ سے پیش آیا ہے- ٹرین کے ڈرائیور کو اسٹیشن ماسٹر نے گرین سگنل دیا جو کہ اس کی بہت بڑی غلطی تھی جس کی وجہ سے ڈرائیور تیز رفتار سے ٹرین چلاتا رہا اور اس کی وجہ سے سامنے پٹری پرکھڑی مال گاڑی دیکھنے کے باوجود بھی بریک لگا کر ٹرین کوبروقت نہ روک سکا- وزیر ریلوے نے واقع کی مزید انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور اس کے علاوہ انہوں نی جاں بحق افراد کے ورثاء کو 15 جبکہ زخمیوں کو 5 لاکھ دینے کا اعلان کیا ہے-
آج کے رونماہ ہونے والے اس سانحہ پر صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے شدید غم و رنج کا اظہار کیا ہے- سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیر اعظم بولے کہ ان کی دعائیں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کے ساتھ ہیں – انہوں نے ساتھ ساتھ وزیر ریلوے کو ریلوے کے انفراسٹرکچر اور حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے-
رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر جمیل احمد کا کہنا ہے کہ ٹرین کو ٹریک سے ہٹا کر راستہ صاف کر دیا گیا ہے- واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تمام حکام جائے وقوعہ پہ پہنچ گئے تھے- دیگر اضلاع سے ایمبولنسز منگوا کر زخمیوں کو فوری ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ باقی محفوظ افراد کو دوسری ٹرین بلوا کر ان کی منزل پر روانہ کر دیا گیا ہے -وزیرداخلہ اعجاز شاہ اور معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی ٹرین حادثے پر گہرے رنج و غم اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اس واقع پر دیگر سیاسی رہنماوں شہباز شریف، مریم نواز نے غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ بلاول بھٹو نے وزیر ریلوے سے استفعے کا مطالبہ کیا ہے-

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers