بین الاقوامیقومی

ورلڈ پاپولیشن ڈے

دنیا بھر میں آج یوم آبادی منایا جا رہا ہے جس کا مقصد لوگوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کی وجہ سے جنم لینے والے مسائل کے بارے میں آگاہی پھیلانا ہے- اس دن کا انعقاد سب سے پہلے یونائٹڈ نیشن ڈیویلپمنٹ پروگرام کی جنرل کونسل کی جانب سے 1989 میں کیا گے جب دنیا بھر کی آبادی تقریبا 5 ارب تک جا پہنچی تھی-
اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں یہ آگاہی پھیلانا ہے کہ کس طرح بڑھتی ہوئی آبادی سے دنیا بھر کے ڈیویلپمنٹ پروگرام متاثر ہو رہے ہیں- روز بروز لوگوں کی گنتی میں اظافے سے وسائل کی مانگ بڑھ رہی ہے جبکہ سپلائی اتنی ہی ہے- اس بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہی دنیا بھر کی معیشیت خطرے کا شکار ہے اس کی علاوہ بیروزگاری میں بھی اظافہ ہو رہا ہے- یو -این کی رپورٹ کے مطابق آبادی میں ہر سال 8 کڑور 30 لاکھ سے زائد کا اظافہ ہو رہا ہے اور 2030 تک دنیا بھر میں لوگوں کی تعداد 8 ارب 60 کڑور تک پہنچ جاِئے گی- آبادی کے تناسب سے چائنہ، بھارت امریکہ، برازیل، برطانیہ ، جرمنی، پاکستان سب سے نمایاں ہیں- ایک اندازے کہ مطابق 2027 تک بھارت آبادی کے تناسب میں چائنہ کو پیچھے چھوڑ کر پہلے نمبر پرآ جائے گا جو کہ اس کی معیشیت کے لیے بہت بڑی خطرے کی گھنٹی ہے -آبادی پہ قابو پانے کے لیے چائنہ اور بھارت نے بے تہاشہ اقدامات کیے ہیں لیکن اب تک کوئی ٹھوس نتائج حاصل نہیں کر پائے- اور ایک ارب سے زائد کی آبادی والے ملک میں لوگوں کے بنیادی وسائل پورے کرنا ان کے لیے دن بدن مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے – جبکہ دوسری جانب وہ ملک جن کی آبادی رقبے اور وسائل کے لحاظ سے کم ہے وہ معاشی طور پر زیادہ مظبوط ہوتے چلے جا رہے ہیں اس کی سب سے بڑی مثال روس، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا اور امریکہ ہیں –
مذاہب کو یکطرفہ رکھتے ہوئے پوری دنیا کہ دانشور اس بات پر اتفاق ضرور کریں گے کہ اس دنیا مین آنے والے ہر شخص کا یہ بنیادی حق ہے کہ اس کی ریاست اس کی تمام بنیادی ضروریات پورا کرے اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے اگر ہر ملک اپنے وسائل کے مطابق اپنی آبادی کہ تناسب کو برقرار رکھے ورنہ اس کا نتیجہ قحط اور غربت ہو گا جس سے معاشرے میں انتشار پھیلے گا اوراگر یہ بات دنیا کا ہر فرد سمجھ لے اور اپنی زمہ داری سمجھ کر اس پر عمل کرے تو تصویر کا رخ کچھ اور ہو سکتا ہے-

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers