بین الاقوامی

کرتار پور راہداری پر پاک بھارت مذاکرات

کرتا رپور راہداری منصوبے کے افتتاح سمیت مختلف امور کو حتمی شکل دینے کے لئے واہگہ بارڈر پر پاک بھارت مذاکرات ہوئے- پاکستان کی جانب سے 13 رکنی جبکہ بھارت کی جانب سے 8 رکنی وفد نے مذاکرات کیے- پاکستانی وفد کی قیادت ڈی جی سارک اور ساؤتھ ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل نے کی جب کہ بھارتی وفد کی نمائندگی جوائنٹ سیکریٹری وزارت داخلہ ایس سی ایل داس نے کی۔ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی اور دونوں ممالک کے وفود نے کرتارپور راہداری کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے معاہدے کے مسودے پر تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق کرتارپورراہداری کےافتتاح کی تاریخ اوروقت پربات ہوگی، دونوں ممالک کےشریک اہم رہنماؤں کےنام فائنل کیےجائیں گے۔ سفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت متوقع ہے جبکہ مذاکرات میں منصوبےکےافتتاح پرکتنےبھارتی یاتری پاکستان آئیں گے اور سکھ یاتریوں کی رجسٹریشن کےطریقہ کار پر ابھی بات ہوگی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان خطے میں امن چاہتے ہیں اور بابا گرو نانک دیو جی کی سالگرہ پر راہداری کھولنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات کا دوسرا دور اہم ہے، راہداری منصوبے پر 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، امید ہے آج کے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔
ادھر کرتارپور راہداری کی تعمیر کا کام آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ زیرو پوائنٹ سے دربار اور شکر گڑھ نارووال روڈ تک سڑک، انٹری گیٹ اور رہائشی عمارتوں کا 90 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔واضح رہے پاکستان گوردوارہ صاحب سے سرحد تک اپنی حدود میں کرتارپور کوریڈور فیز1 میں ساڑھے 4 کلو میٹر سڑک تعمیر کرے گا، اسی طرح بھارت بھی اپنی حدود میں سرحد تک راہداری بنائے گا۔آپ کو بتاتے چلیں کہ کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات کا پہلا مرحلہ 14 مارچ کو بھارت میں اٹاری کے مقام پر ہوا تھا جس میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی قیادت میں 18 رکنی پاکستانی وفد نے شرکت کی تھی۔ سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن سے پہلے پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولنےکے لیے باقی کا کام تیزی سے جاری ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers