بین الاقوامیقومی

عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کو جاسوس قرار دے دیا

عالمی عدالت میں بھارت کی پسپائی، کلبھوشن کی رہائی، سزائے موت کی معطلی اور حوالگی کی درخواست مسترد جبکہ عدالت کا کلبھوشن کو صرف قونصلر تک رسائی کا حکم، عدالتی فیصلے پر ایڈہاک جج تصدق جیلانی کا اختلافی نوٹ، بولے کہ ویانا کنونشن جاسوس پر ٖلاگو نہیں ہوتا-
فیصلہ بدھ کی سہ پہر کو ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے پریزیڈنٹ عبدالقوی احمد یوسف نے بھری عدالت میں سنایا- فیصلے کے مطابق کلبھوشن کی سزائے موت کا فیصلہ موخر، کلبھوشن کو قونصلر کی رسائی دی جائے گی- جبکہ بھارت کی کلبھوشن کی حوالگی اور سزائے موت کی معطلی کی درخواست مسترد، جج کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے مطالبے پرکلبھوشن کااصل پاسپورٹ اور کلبھوشن کی شہریت کے تمام دستاویزات نہیں دکھائے۔
عالمی عدالت نے کلبھوشن کا حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ اصلی قرار دیا اور فرمایا کہ کلبھوشن یادیو اسی پاسپورٹ پر17 بار بھارت سے باہرگیااور واپس آیا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے کلبھوشن یادیو کو بھارتی جاسوس قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمانڈرکلبھوشن پاکستان کی حراست میں ہی رہےگا کیوں کہ کلبھوشن یادیو پرجاسوسی کا الزام ہے، جبکہ اس پر ویاناکنونشن لاگو ہوگا، سزائے موت کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی اور اسی بنا پر کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دی جائے۔
کورٹ میں پاکستان نے استدعا کی تھی کہ چونکہ کلبھوشن یادیو ایک جاسوس ہے اس لیے اس پر ویانا کنونشن لاگو نہیں ہوتا جبکہ عدالت نے حکم دیا کہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے تحت اس کو قونصلر تک رسائی دی جائے گی-
وزیراعظم پاکستان عمران خان عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بولے کہ کلبھوشن کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ قابل تحسین ہے- پاکستان اس کیس میں قانون کے مطابق کارروائی کرے گا-

جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی اخلاقی فتح ہے کیونکہ بھارت عالمی عدالت میں یہ موقف لے کر گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو جاسوس اور دہشت گرد نہیں بلکہ بے گناہ ہے مگر عالمی عدالت نے بھارت کا موقف مسترد کر دیا-
آپ کو بتاتے چلیں کہ کلبھوشن یادیو کو پاکستانی حکام نے 3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے قریب ساروان بارڈر سے گرفتار کیا تھا جو کہ انڈین نیوی میں اس وقت بطور افسر کام کر رہا تھا- ملٹری کورٹ میں اپنا ٹرائل بھگتتے ہوئے کلبھوشن نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردانا سرگرمیاں سرانجام دینے کے لیے آیا تھا-اقبال جرم کے بعد عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی مگر بھارتی حکام یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے گئے جس پرعالمی عدالت انصاف نے پاکستان کو پھانسی کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے روک دیا تھا-
مزید جانیے:https://aapnews.pk/2019/07/16/kulbhushan-yadav-case/

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers