بین الاقوامی

امریکہ اور ایران کے درمیان تلخیاں بڑھنے لگیں

امریکہ اور ایران کے درمیان تلخیاں بڑھنے لگیں، امریکہ کا آبنائے ہرمز میں ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعوی، ایرانی وزیر خارجہ نے دعوی مسترد کر دیا-عرب میڈیا زرائع کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس باکسر نے جمعرات کو دفاعی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی ڈرون کو مار گرایا ہے جس سے جہاز اور عملے کو سیکیورٹی خدشات تھے۔
اس بات کا دعوی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویبسائٹ پہ کیا-اس واقعے کی زیادہ تفصیلات بیان کیے بغیر امریکی صدر کا کہنا تھا ایران کی بین الاقوامی پانیوں میں موجود جہاز کے خلاف کارروائی انتہائی اشتعال انگیز اور دشمنانہ ہے، امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ دیگر اقوام کو بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ مستقبل میں کام کرنے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اپنے جہازوں کی حفاظت کریں۔
امریکہ کے دفائی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق یہ واقعہ صبح 10:00 بجے پیش آیا جب امریکی جہاز آبنائے ہرمز کی حدود میں داخل ہو رہا تھا-ایرانی ڈرون کے قریب آتے ہی اسے متعدد دفع واررنگ دی گئی مگر پیچھے نہ ہٹنے پر اسے امریکی بحری جہاز یو ایس ایس باکسر نے مار گرایا- دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد زریف کا کہنا ہے کہ انہیں جمعرات کو کسی ایرانی ڈرون کے گرنے کی اطلاع نہیں ملی -اس خبر پر ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس ارغاچی کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس باکسر نے امریکہ کا ڈرون ہی تو مار نہیں گرایا-
آپ کو بتاتے چلیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا اور ایران نے گزشتہ ماہ امریکی ڈرون طیارے کو نشانہ بنایا تھا۔ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکا نے مشرق وسطیٰ میں نہ صرف بحری بیڑے تعینات کررکھے ہیں بلکہ 1500 امریکی فوجیوں کے بعد مزید ایک ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ خلیج اومان میں جاپان اور ناروے کے آئل ٹینکرز کو مبینہ طور پر نقصان پہنچا اور امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers