انٹرٹینمنٹبلاگ

پاکستانی سنیما کا عروج و زوال

سنیما ایک ایسی صنعت ہے جو کہ ایک ملک کی ثقافت اور تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے اور دنیا میں اس کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کی بات کی جائے تو اس نے اپنی فلم انڈسٹری سے ہی دنیا میں اپنی ثقافت اور تہذیب کا لوہا منوایا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ کثیر آبادی والے ملک میں ان کی اس صنعت نے لوگوں کے لیے ملازمتیں اور ملک کے لیے بے تحاشہ زرمبادلہ بھی کمایا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستانی سنیما ہمارے ملک کوبین الاقوامی سطح پر اس طرح کی پذیرائی نہیں دلوا سکا- پاکستان میں 1948 سے لے کر اب تک اردو، سندھی، پنجابی اور پشتو زبانوں میں تقریبا چھبیس ہزار سے زائد فلمیں بن چکی ہیں جن میں سے چند ہی فلموں نے باکس آفس پر کھڑکی توڑ بزنس کیا ہے-

1948 سے لے کر اب تک پاکستانی سنیما تین ادوار کا حامل رہا ہے آغاز سے عروج، عروج سے زوال اور زوال سے پھر سے اس کی بحالی- پاکستانی سنیام کا آغاز 1948 میں داود چند کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم تیری یاد سے ہوا- یہ وہ دور تھا جب اس صنعت سے تعلق رکھنے والے لوگ مالی حالات سے دوچار تھے مگر محدود وسائل کے باوجود فنکاروں کے ہنر اور ہدایتکاروں کی تحلیقی صلاحیتوں کی بنا پر اس انڈسٹری سے وابستہ لوگ ایک معیاری فلمی مواد بنانے کا ہنر جانتے تھے- اس دور میں لوگ سنیما کو برا کہنے کے بجائے اپنی ثقافت کا حصہ سمجھتے تھے اور جوق در جوق سنیما کا رخ کرتے تھے۔
فلم “تیری یاد” کے بعد اپریل 1950 میں ریلیز ہونے والی فلم “دو آنسو” نے پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم کا تمغہ اپنے سر سجایا اس دور میں پاکستانی سنیما کو لالی ووڈ کا نام مل چکا تھا جس کا گڑھ لاہور تھا-

عروج کی جانب ایک حسین سفر

ساٹھ کی دہائی میں پاکستانی سنیما اپنے سنہرے دور میں داخل ہوا- پاکستان کی تاریخ کے ہر فن مولا فنکار محمد علی نے فلم “چراغ جلتا رہا” سے انڈسٹری میں قدم رکھا اور اس کے بعد ایک تواتر سے پاکستان کو سپر ہٹ فلموں کے ساتھ لیجینڈری اداکار بھی ملتے رہے- اسی دور میں پاکستانی سنیما کو اپنا پہلا سپرسٹار “چاکلیٹی ہیرو” وحید مراد ملا- فلم “ارمان” سے پاکستانی سنیما کو احمد رشدی اور سہیل رانا جیسے عظیم گلوکار ملے. فلم “ارمان” 75 ہفتوں تک سنیماؤں کی زینت بننے کے بعد اس وقت پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی فلم بن گئی- اس کے بعد 1967 میں ریلیز ہونے والی فلم “چکوری” سے پاکستان کو ندیم بیگ کی شکل میں ایک اور لیجینڈری اداکار ملا- یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں بے شمار سنیما بن چکے تھے لوگ پاکستانی فلموں کو بے حد پسند کرتے تھے اور پاکستانی سنیما کا طوطی ہمسایہ ملک بھارت میں بھی بولا جانے لگا تھا- مگر 70 کی دہائی میں پاکستان مارشل لاء کا شکار بنا جس کے سنگین اثرات پاکستانی فلم انڈسٹری پر پڑے-

سنیما کے زوال کا دور

1971 کی جنگ کے بعد مشرقی پاکستان علیحدہ ہونے سے پاکستان میں سنیماؤں کی تعداد کم ہو گئی جس کا پروڈیوسرز کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ دوسری جانب جنرل ضیاءالحق کی اسلام آئزیشن کی پالیسی کی بنا پر پاکستان میں بننے والی فلموں پہ سخت سینسرشپ عائد ہونے لگی جس کی وجہ سے فلموں کا معیار گرنے لگا- پاکستان میں اردو فلموں کی تعداد کم ہونے لگی جبکہ پنجابی فلموں کے رجحان میں بھی تبدیلی آئی- ایک طرف پاکستانی سنیما کا معیار گر رہا تھا تو دوسری جانب پنجابی فلموں میں مار دھاڑ اور گانوں میں مجرے کا کلچر متعارف ہوا- پاکستانی فلموں کے ہیرو کی علامت رومانس کے بجائے گنڈاسہ بن گیا – دوسری جانب مولانا حضرات نے سنیماوں کو حرام اور فحاشی کی علامت قرار دیا اور یوں لوگ سنیما سے کنارہ اختیار کرنے لگے- سلطان راہی کی فلم “مولا جٹ” کے سوا کوئی فلم باکس آفس پہ قدم نہ جما سکی- پاکستان فلم انڈسٹری کے بڑے اداکار، ہدایتکار اور پروڈیوسرز نے فلمی صنعت کو خیر آباد کہنا شروع کر دیا- فلم اسٹوڈیوز کو تالے لگنے لگ گئے جس کی وجہ سے فلموں کی تعداد کم ہونے لگی- لاہور کے وہ اسٹوڈیوز جہاں کبھی بہترین اردو فلمیں تخلیق کی جاتی تھیں، وہ لوگوں کو فحاشی اور بے حیائی کے اڈوں کے طور پر نظر آنے لگے- اکیسویں صدی کے آغاز میں ہی پاکستان کی فلمی صنعت دم توڑ چکی تھی- لیجینڈری اداکار اور فنکار یا تو وفات پا چکے تھے یا انڈسٹری چھوڑ چکے تھے- ہدایتکار اور پرڈیوسرز نے ڈرامہ انڈسٹری کا رخ کر لیا اور اس طرح پاکستانی سنیما اپنی آخری سانسیں لینے کے نہج پہ آ پہنچا-

سنیما کی بحالی کا سفر

سینما کے حالات کشیدہ ہی تھے کہ چند سالوں بعد شعیب منصور کی فلمیں “خدا کے لیے” اور “بول” جن کو دنیا بھر میں سراہا گیا پاکستانی سنیما کے لیے ایک امید کی کرن بن کر سامنے آئیں- اس کے بعد ڈرامہ انڈسٹری میں کام کرنے والے ستاروں نے فلمی صنعت کو بحال کرنے کا بیڑہ اٹھایا- 2013 میں پاکستانی فلم “میں ہوں شاہد آفریدی” اور “وار” نے شائیقین کو سنیما کی جانب دوبارہ متوجہ کیا- اس کے بعد “نا معلوم افراد”، “جوانی پھر نہیں آنی” جیسی کامیڈی فلموں نے باکس آفس پر نت نئے ریکارڈ قائم کیے- اس کے علاوہ ایکشن تھرلر “جلیبی”، “سیاح”، “رونگ نمبر 2″، انیمیٹڈ فلم “3 بہادر” اور “ڈونکی کنگ” نے بھی ثابت کیا کہ پاکستانی سنیما میں ہر طرح کی فلم بنانے کی صلاحیت موجود ہے- مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج بھی پاکستانی سنیما عوام کی امنگوں کے مطابق فلمیں تخلیق کر رہا ہے؟

دراصل 21 کی دہائی کے شروع سے لے کر اب تک انڈین میڈیا اور فلمیں پاکستانی عوام کے ذہنوں میں غلبا پا چکا ہے. پاکستانی عوام کو انڈین فلمیں جن میں مرچ مصالحہ، اونچے معیار کا ایکشن، آئٹم نمبر کی چاٹ لگ گئی ہے- اس کے مقابلے میں جب سنیماوں میں کوئی پاکستانی فلم نشر کی جاتی ہے تو وہ اسے فوقیت نہیں دیتے- اس کے لیے فلم انڈسٹری میں کام کرنے والے ہدایتکاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ فلموں کے معیار کو مزید بڑھائیں اس کے لیے پروڈیوسرز پہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صنعت پہ اعتماد ظاہر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پیسہ انویسٹ کریں تاکہ پاکستانی سنیما مزید اوپر جا سکے- اس کی سب سے بڑی مثال بڑے بجٹ میں بننے والی فلمیں “تیفا ان ٹربل” اور “جوانی پھر نہیں آنی 2” ہیں جو بڑے بجٹ کے باعث ایک اچھے معیار پر پورا اتریں-

یہ ضروری نہیں کہ بڑا بجٹ ہی معیاری فلم کی وجہ بنے، ایک اچھی فلم عمدہ ہدایتکاری، اداکاری اوربہترین تحریری مواد کی بناء پر بھی کامیاب ہو سکتی ہے مگر اس کے لیے بہت محنت درکار ہو گی.  پاکستانی عوام کو بھی اس میں اپنا قلیدی کردار ادا کرنا ہوگا کہ وہ بھارتی فلموں کو چھوڑ کے “میڈ ان پاکستان” پر انحصار کریں اس طرح دیگر انویسٹرز کا بھی انڈسٹری پہ اعتماد بحال ہو گا- دوسری جانب فلموں کے تخلیق کاروں کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ وہ ہمارے معاشرے کے معیارات اور اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے اچھی فلمیں تخلیق کریں جو کے حقیقی معنوں میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر سکیں- اسی طرح پاکستانی سنیما ایک مضبوط صنعت بن کر ابھر سکے گا۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers