بین الاقوامی

پاکستان نے دورے کی دعوت دی تو قبول کریں گے: ترجمان افغان طالبان

پاکستان نے دورے کی دعوت دی تو قبول کریں گے، ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین کا برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بیان، بولے کہ وزیراعظم عمران خان سے بھی ملیں گے، پاکستان ہمسایہ ملک ہے اور ہم ہمسائے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں-

ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے امریکہ کے دورے میں کہا تھا کہ طالبان سےملیں گے اور طالبان کو کہیں گے کہ افغان حکومت سےمذاکرات کریں- ہم تو خطے اور ہمسایہ ممالک کے دورے وقت کے ساتھ ساتھ کرتے رہتے ہیں، دوسرے ممالک کے ساتھ بھی ہمارے رابطے جاری ہیں، ہم رابطے رکھنا بھی چاہتے ہیں اور پاکستان تو ہمارا ہمسایہ اور مسلمان ملک ہے-

ترجمان طالبان سہیل شاہین سے ایک سوال کیا گیا کہ طالبان پر تو پہلے سے ہی یہ الزامات ہیں کہ وہ پاکستان کی پراکسی ہیں، تو کیا اس دورے سے افغانستان کے اندر اور باہر ان پر مزید الزامات نہیں لگیں گے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ لوگ جن کے پاس طالبان کے خلاف جھگڑے کے لیے کوئی اور دلیل نہیں ہوتی وہی ان پر اس طرح کے الزامات لگائیں گے، ماضی میں بھی وہ ایسے الزامات لگا چکے ہیں اور مستقبل میں بھی لگاتے رہیں گے۔

سہیل شاہین نے مزید کہا کہ ہم نے افغانستان کے مسئلے کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا ہوا ہے، ایک بیرونی اور دوسرا اندرونی، پہلے مرحلے میں جاری مذاکرات اب اختتامی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، مذاکرات کامیاب ہو گئے تو دوسرے مرحلے میں تمام افغان فریقین سے بات چیت شروع کریں گے- اگر اس مرحلے میں اگر افغان حکومت چاہے تو وہ بھی شامل ہو سکتی ہے-

انہوں نے کہا کہ انہوں نے امریکا کے ساتھ پہلے بھی گرفتار ساتھیوں کی رہائی کے لیے قیدیوں کے تبادلے کئے ہیں اور اب بھی کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس میں اگر کوئی کچھ کردار کرنا چاہتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہو گی-

عمران خان نے امریکی انسٹیٹیوٹ آف پیس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں اور اربوں کا نقصان اٹھایا، پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اس سے ڈو مور کا مطالبہ کیسے کیا جا سکتا ہے- صدر ٹرمپ کو خطے میں صورتحال سے آگاہ کیا ہے-افغان امن عمل کے حوالے سے امریکی حکام سے بات ہو چکی ہے، اب طالبان سے ملاقات کروں گا۔ امریکا کی اہم شخصیات کو پاکستان اور افغانستان کے قبائلی علاقوں کا درست اندازہ نہیں ہے، امید کرتا ہوں کہ طالبان اور امریکا کے درمیان بات چیت سے حل نکلے گا، افغان مسئلے کے پائیدار حل کیلئے مزید وقت درکار ہو گا۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers