قومی

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 126ویں سالگرہ آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے

قیام پاکستان کے حصول میں قائد اعظم کے شانہ بشانہ جد و جہد کرنے والی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 126ویں سالگرہ آج عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے، ملک بھر میں سیمینارز اور تقاریب منعقد ہوں گی جن میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو قوم کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ فاطمہ جناح نے تحریک آزادی اور قیام پاکستان میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ فاطمہ جناح کی پیدائش 31 جولائی 1893 میں کراچی میں ہوئی-

اپنی ابتدائی تعلیم انہوں نے کراچِ سے حاصل کی جبکہ 1923 میں وہ کلکتہ یونیورسٹی سے ڈینٹل ڈگری ہولڈر بن کر پاس آوٹ ہوئیں – شروع ہی سے وہ اپنے بھائی محمد علی جناح کے ساتھ سیاست کے میدان میں سرگرم رہیں اور بطور ان کی قریبی ساتھی اور مشیر حصول پاکستان کی جدوجہد میں ایک قلیدی کردار ادا کیا- آل انڈیا مسلم لیگ کی فعال رکن ہونے کی حیثیت سے انہوں دو ملکی نظریہ کی بھر پور حمایت کی اور قائداعظم کے ساتھ مل کر پاکستان بنانے کا خواب پورا کیا-

آزادی کے بعد وہ پاکستان کی پہلی ویمن اسوسی ایشن کی بانی بنی جس نے مہاجر عورتوں کے حقوق کے لیے کام کیا-اور یہ فاطمہ جناح کی ہے کاوشوں کا نتیجہ تھا کی برصغیر کی خواتین نے ان کی آواز پہ لبیک کہا اور لے کے رہیں گے، پاکستان بن کے رہے گا پاکستان کا نعرہ بلند کیا-

مگر قیام پاکستان کے بعد چند شر پسند عناصر نے ان کی سیاست میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں- ۱۹۵۱ تک ان کے قوم سے خطاب پر پابندی عائد رہی اور ان کے قوم سے ریڈیو پہ خطاب کو بھی توڑ مڑور کر نشر کیا گیا- اس کے بعد 60 کی دہائی میں جب جمہوریت خطرے میں پڑی تو آمروں کا مقابلہ کرنے ایک بار پھر سے میدان میں اتریں- اور کمباِئین آپوزیشن پارٹی آف پاکستان کی جانب سے صدر پاکستان کی امیدوار کے لیے الیکشن لڑا-

انہوں نے ایوب خان اور اس کے اتحادیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا – مگر شر پسند عناصروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر دھاندلی کیے جانے کے باعث وہ کامیاب نی ہو سکیں -نماِیاں دھاندلی کے باوجود وہ پاکستان کے دو بڑے شہر کراچی اور ڈھاکہ سے کامیاب قرار پائیں اور ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایوب خان کو ڈکٹیٹر کا خطاب دیا- انہوں نے مغربی پاکستان کے دورے کے دوران لاکھوں کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے آمروں کو شکست دے کر جمہوریت کا بول بالا کرنے کا اعلان کیا اور قوم کو اس مشکل وقت میں یکجا ہونے کی تلقِین کی-

ان کی وفات 9 جولائی 1967 میں ہارٹ اٹیک سے ہوئی جبکہ ان کے اہلحانہ اور اتحادیوں نے ان کی موت کو مخالفین کی جانب سے قتل قرار دیا – فاطمہ جناح کو ان کے بھائی محمد علی جناح کے ہمراہ کراچی میں سپردخاک کیا گیا- ان کی موت تو آج بھی ایک معمہ ہے لیکن جمہوریت، تحریک پاکستان اورشہری حقوق کے لیے ان کی بے لوث خدمات کی وجہ سے قوم نے انہیں مادرملت کا خطاب دیا- مادر ملت نے جس سیاسی بصیرت و قیادت، جراتمندی اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔ وہ نہ صرف مادر ملت بلکہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کیلئے رول ماڈل ہیں۔ ان کے انگنت احسانات اور کاوشوں کے مدنظر انہیں بطور قوم کی ماں ہمیشہ یاد رکھا جائیگا-

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers