قومی

آئی جی پنجاب نے کرپٹ افسران کی لسٹ تیار کر لی

لاہور پولیس کے 14 ڈی ایس پیز اور 14 انسپکٹرز کی رشوت ستانی منظر عام پر آ گئی- خفیہ رپورٹ کے مطابق یہ افسران مختلف اڈوں اور منشات فروشوں سے رشوت لیتے ہیں۔ سی۔سی۔پی او لاہور کی رپورٹ نے سب کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ افسران اکثر جرائم پیشہ افراد سے اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ اسی طرح کی ایک لسٹ پہلے بھی تیار کی گئی تھی-

پنجاب پولیس میں عجب تماشہ، کرپشن ختم کرنا دور کرپشن کی بات ہی کرنا ایک چیلینج بن گیا- کل کے آئی۔جی کی نظر میں کرپٹ افسر آج کے آئی جی کی نظر میں ایماندار ہو گئے- آپ کو بتاتے چلیں کی سابق آئی۔جی پنجاب نے 35 افسروں کو کرپٹ قرار دے کر انہیں برطرف کیا تھا. اپنی رپورٹ میں سابق آئی۔جی نے واضح طور پر لکھا تھا کہ یہ افسران ہر طرح کی کرپشن اور رشوت ستانی میں ملوث رہے ہیں، ان کے بعد آنے والی نئے آئی۔جی پنجاب عارف نواز نے 35 میں سے 34 افسران کو کلیٔر چٹ دے کر بحال کر دیا اور اب چند ماہ بعد ان کی جانب سے 24 افران کی لسٹ مختلف اضلاع کے آر۔پی۔اوز کو بھیجی گئی ہیں- ابھی پہلی لسٹ گیم ختم ہی نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور لسٹ سامنے آ گئی۔ پنجاب پولیس کے اس عجب تماشے نے پورے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو مذاق بنا دیا ہے-

آئی جی عارف نواز کی جانب سے پیش کی جانے والی لسٹ میں 28 ایس-ایچ-او اور ڈی-ایس-پیز کے نام شامل ہیں۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب میاں اسلم اقبال نے آپ نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی لسٹ مختلف اضلاع کے آر۔پی۔اوز کو بھیجی گئی ہیں تا کہ وہ اپنے انڈر تمام افسران کی تفتیش کر کے پتہ لگا سکیں کہ کس کس افسر نے کرپشن کی ہے-

آئی جی عارف نواز کا کہنا تھا کہ پولیس میں جزا اور سزا کا عمل ہونا چاہیے اگر ایسا نہیں ہو گا تو پولیس کا نظام کبھی ٹھیک نہیں ہو پائے گا- پولیس کا ایک اپنا خود احتسابی کا نظام موجود ہے اور یہ لسٹیں پولیس کے ذیلی اداروں نے تیار کی ہیں۔ انوں نے مزید کہا کہ عالمی اداروں کے مطابق سیف سٹیز کی فہرست میں لاہور دنیا بھر میں 238ویں نمبر پر ہے جبکہ چند سال پہلے 150ویں نمبر پر تھا- سپریم کورٹ کی جانب سے پولیس ریفارمز کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اس کے علاوہ صوبائی سطح پہ بھی ایک ریفارمز کمیٹی کام کر رہی ہے جو کہ عوام کی نظروں میں پولیس کا تصور بہتر بنانے کے لیے ریفارمز میں کوشاں ہے-

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers