قومی

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا

حکومت کا عوام کو ماہ آذادی اور عید کا ڈبل تحفہ، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ شہریوں کا اس فیصلے پر شدید غصے کا اظہار، فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ-
حکومت نے اوگرا کی جانب سے دی گئی سمری منظور کرتے ہوئے عوام پہ پیٹرول بم گرا دیا- پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 117.83 پیسے ہوگئی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں بھی 5 روپے 65 پیسے اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 132.47 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
لائٹ ڈیزل تیل کی قیمت میں 8 روپے 90 پیسے فی لٰٹر اضافہ کیا گیا ہے، لائٹ ڈیزل تیل کی نئی قیمت 90.52 ہوگئی ہے جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 5 روپے 38 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب نے پیٹرول کی قیمت مین اضافے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی نااہل حکومت نے غریب کے منہ سے نوالا چھین لیا ہے، غریب عوام مشکلات میں ہیں مگر حکمرانوں کو اس کی پرواہ نہیں۔ اس کے علاوہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے عوام میں کافی غم و غصہ پایا جا رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا، جب سے نئی حکومت آئی ہے تب سے کوئی ماہ ایسا نہیں جس میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہ کیا گیا ہو۔ عوام نے حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا-
دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں ایک شہری نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کو چیلینج بھی کر دیا ہے۔ درخواست میں شہری نے یہ موقف اپنایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ غیر قانونی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف درخواستیں پہلے سے ہی لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں، جب تک زیر سماعت درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیسے کیا جاسکتا ہے، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے متعلق کابینہ سے منظوری تک بھی نہیں لی۔ درخواست گزار نے عدالت سے گزارش کی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا جائے۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers