قومی

صادق سنجرانی بطور چیرمین سینیٹ برقرار

صادق سنجرانی بطور چیرمین سینیٹ برقرار، اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک ناکام، اپوزیشن کوئی جادو نہ دکھا سکی، حکومت نے اپوزیشن کو بڑا سرپرائز دے دیا، اپوزیشن کے امیدوار کو کامیاب ہونے کے لیے 53 ووٹ درکار تھے جبکہ وہ صرف 50 ووٹ حاصل کر سکے۔ خفیہ رائے شماری میں اپوزیشن کے 14 سینیٹرز کی دغابازی-
سینیٹ اجلاس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے خفیہ رائے شماری کرائی گئی تھی ، تمام خاضر ارکانِ سینیٹ نے حروف تہجی کے حساب سے اپنا ووٹ کاسٹ کیا، تین ارکان کی جانب سے ووٹ کاسٹ نہیں کیے گئے جن میں سے دو ارکان جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ غیر خاضری کی وجہ سے ووٹ کاسٹ نہ کر سکے-
ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے پولنگ ایجنٹس کے سامنے ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ پریزائیڈنگ افسر بیرسٹر سیف نے ووٹوں کی گنتی کے بعد اعلان کیا کہ آئین کے مطابق قرارداد کے حق میں 50 ووٹ پڑے جس کی وجہ سے یہ قرارداد متعلقہ ایک چوتھائی ووٹ نہ ملنے کی وجہ سے مسترد کی جاتی ہے۔ جبکہ تحریک عدم اعتماد کی مخالفت میں 57 ووٹ پڑے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ ن لیگ کے مرکزی رہنماء راجہ ظفرالحق نے صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی اجازت پر تحریک پیش کی تھی، تحریک کی حمایت میں 64 ارکان کھڑے ہوئے تھے۔ جس کے بعد اپوزیشن کی طرف سے جاوید عباسی اور حکومتی بنچز کی طرف سے نعمان وزیر کو پولنگ ایجنٹس نامزد کیا گیا تھا۔
سینیٹ میں نمبر گیم کے حوالے سے آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ 65 ارکان اپوزیشن کے اتحاد میں شامل کھڑے نظر آتے ہیں۔ ن لیگ کے 30 سینیٹرز میں سے 17 پارٹی ٹکٹس پر منتخب ہوئے جبکہ 13 آزاد حیثیت سے منتخب ہو کر آئے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے 21 سینیٹرز میں سے ایک آزاد ہے۔ نیشنل پارٹی کے 5، جے یو آئی ف کے 4 ، اے این پی کا ایک اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 4 سینیٹرز ہیں جن میں سے دو آزاد ہیں۔
دوسری جانب حکومتی اتحاد میں کل ملا کر سینیٹرز کی تعداد 36 ہے جن میں تحریک انصاف کے 14، بلوچستان عوامی پارٹی کے 8، سابق فاٹا کے 7 ، ایم کیو ایم کے 5 جبکہ مسلم لیگ فنکشنل اور بی این پی مینگل کا ایک ایک ووٹ شامل ہے۔
چیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک پر آج ووٹنگ ہونے سے پہلے لیڈر آف دی سینیٹ اور تحریک انصاف کے رہنماء شبلی فراز نے دعویٰ کیا تھا کہ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی اور صادق سنجرانی کو 60 ووٹ ملیں گے کیونکہ اپوزیشن ارکان کی اکثریت میرحاصل بزنجو پر اعتماد ہی نہیں کررہی۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers