قومی

اپوزیشن کا 14 سینیٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

اپوزیشن کو پیٹھ پہ چھرا گھونپنے والے 14 سینیٹرز کی تلاش. شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کی بیٹھک. تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر اظہار تشویش. پارٹی لائن سے انحراف کرنے والے سینیٹرز کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ، آئندہ ہفتے اے-پی-سی بلائی جائیگی۔
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے قائد شہبازشریف کی زیرصدارت پارٹی سینیٹرز کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں (ن) لیگ کے ارکان سینیٹ راجہ ظفر الحق، پرویز رشید، ڈاکٹر آصف کرمانی، جاوید عباسی، مصدق ملک، مشاہد حسین سید اور مشاہد اللہ خان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مسلم لیگ کے قائد نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے پر اظہار تشویش کا اظہار کیا جبکہ تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کی وجوہات پر بھی غور کیا گیا۔
شہباز شریف نے اجلاس میں پارٹی لائن سے انحراف کرنے والے سینیٹرز کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 14 سینیٹرز نے ضمیر فروشی کی اور تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنایا، تمام اپوزیشن مل کر اس معاملے پر لائحہ عمل تیار کرے گی. اپوزیشن کے کچھ سینیٹرز نے حکومت کے ساتھ مل کر سینیٹ اور اپنا وقار تباہ کیا ہے۔ ضمیر فروشی کرنے والے ارکان کو تلاش کریں گے اور ان کے خلاف سخت ایکشن لیں گے۔
گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی. جس کے ساتھ ہی وہ چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر برقرار رہے۔ جب ن لیگ کے رہنماء راجہ ظفرالحق نے ایوان میں تحریک پیش کی تو اپوزیشن کے 63 ارکان نے اپنی نشستوں پہ کھڑے ہو کر اس کی حمایت کی تاہم جب خفیہ رائے شماری کی باری آئی تو اپوزیشن کے امیدوار کو 53 کے بجائے 50 ووٹ ملے۔ اپوزیشن نے میر حاصل بزنجو کو اپنا متفقہ امیدوار نامزد کیا تھا۔
دوسری جانب تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر پیپلز پارٹی کے 21 سینیٹرز نے استعفے جمع کروا دیے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام 21 سینیٹرز نے استعفے میرے حوالے کر دیئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نظریاتی پارٹی ہے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ ہم ہار کر بھی جیت گئے ہیں۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers