قومی

حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 روزہ توسیع

آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس عدالت نے حمزہ شہباز کے ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کر دی۔ کیا جعلی ٹی ٹیز پر تفتیش مکمل ہو گئی؟ عدالت کا سوال ان ٹی ٹیز کے ذریعے حمزہ شہباز اور ان کی فیملی نے جائیدادیں خریدیں، نیب پراسیکیوٹر کا جواب۔

لاہور کی احتساب عدالت میں پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو نیب حکام نے آمدن سے زائد ثاثہ جات کیس میں عدالت کے سامنے پیش کیا۔ نیب حکام نے عدالت سے حمزہ شہباز کے مزید جسمانی ریمانڈ کی گزارش کی۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ نیب پہلے ہی 50 دن سے زائد کا ریمانڈ لے چکا ہے اور کتنا ریمانڈ چاہیے؟ تمام ریکارڈ پہلے ہی نیب کے پاس ہے، مزید جسمانی ریمانڈ کیوں لیا جا رہا ہے؟ گزشتہ سماعت پر بھی نیب کا یہی مؤقف تھا جو آج ہے۔

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا حمزہ شہباز کی مزید 2 کمپنیوں کا سراغ ملا ہے، اس لیے اس کی تفتیش کیلئے ان کا مزید ریمانڈ دیا جائے۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت سے گزارش کی کہ نیب ان کے مؤکل سے کسی قسم کی ریکوری نہیں کر پائی۔ اس لیے اب ان کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔ نیب حکام عدالت کے سامنے حقائق کو توڑمروڑ کرپیش کر رہے ہیں۔ حمزہ شہباز کے وکیل نے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے نیب کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے عدالت نے نیب کی گزارش منظور کرلی۔ ریمانڈ میں 7 روز کی توسیع کرتے ہوئے 10 اگست کو پھر پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت میں حمزہ شہباز کی رانا اقبال سمیت دیگر ن لیگی رہنماؤں سے بھی ملاقات ہوئی۔ سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالنے والوں کا فیصلہ پارٹی کی بنائی گئی کمیٹی ہی کرے گی۔

اس سے قبل پچھلی سماعت میں عدالت کی جانب سے حمزہ شہباز کے 14 روزہ ریمانڈ کی توسیع کی گئی تھی۔ نیب کا مؤقف تھا کہ2 کروڑ روپے کے سال 2004 سے ٹیکس ریٹرن نہیں ملے، جب کہ 2 بے نامی کمپنیاں بھی سامنے آئی ہیں، کمپنیوں کی 5 ارب روپے کی ٹرانزکشز ہوئی ہیں، ڈائریکٹر کو طلب کیا تو ریکارڈ دینے کا وعدہ کیا لیکن کچھ نہیں دیا۔ اس لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے اس موقف پر احتساب عدالت نے ن لیگی رہنماء حمزہ شہباز کا 10 دن کا مزید ریمانڈ دیتے ہوئے ملزم کو 3 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے کر سماعت ملتوی کردی تھی۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers