بین الاقوامی

بھارت نے کلبھوشن یادیو سے ملاقات کا پہلا موقع گنوا دیا

بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار۔ کلبھوشن یادیو سے ملاقات کا پہلا موقع گنوا دیا۔ پاکستان نے بروز جمعہ ملاقات کی پیشکش کی تھی جس پر بھارت نے 2 گھنٹے پہلے جواب بھیجا اور اپنے جاسوس تک بغیر کسی رکاوٹ رسائی مانگی تھی۔ پاکستان نے شرط ماننے سے انکار کر دیا۔ قونصلر رسائی کی نئی تاریخ کا فیصلہ اب بعد میں ہو گا۔

پاکستان نے اپنی پیشکش میں واضح کیا تھا کہ ملاقات بروز جمعہ سہ پہر تین بجے کرائی جائے گی مگر بھارت نے پاکستان کے مخلصانہ اقدام کا ڈھنگ سے جواب نہ دیا۔ ملاقات کے وقت سے دو گھنٹے پہلے اپنا جواب بھیجا جس میں پاکستانی پیشکش پر غیر ضروری اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ بھارت نے بغیر کسی رکاوٹ اپنے جاسوس تک رسائی مانگی تھی جبکہ جاسوس تک بغیر رکاوٹ رسائی کسی قانون کے تحت نہیں دی جا سکتی۔

اس موقف کی بنا پر پاکستان کا بھارت کی شرائط ماننے سے انکار۔ اب بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی کیلئے نئی تاریخ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ آگے باہمی مشاورت سے ہو گا۔

17 جولائی کو کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف میں ہونے والی سماعت میں عالمی عدالت کلبھوشن کو قونصلر رسائی کی اجازت دی تھی عدالت انصاف نے کلبھوشن کا حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ اصلی قرار دیا تھا اور فرمایا تھا کہ کلبھوشن یادیو اسی پاسپورٹ پر17 بار بھارت سے باہر گیا اور واپس آیا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے کلبھوشن یادیو کو بھارتی جاسوس قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کمانڈرکلبھوشن پاکستان کی حراست میں ہی رہے گا کیوں کہ کلبھوشن یادیو پرجاسوسی کا الزام ہے. جبکہ اس پر ویانا کنونشن لاگو ہو گا. سزائے موت کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے گی اور اسی بنا پر کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دی جائے۔

کورٹ میں پاکستان نے استدعا کی تھی کہ چونکہ کلبھوشن یادیو ایک جاسوس ہے اس لیے اس پر ویانا کنونشن لاگو نہیں ہوتا جبکہ عدالت نے حکم دیا تھا کہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے تحت اس کو قونصلر تک رسائی دی جائے گی-

About Author

Comment here

Subscribers
Followers