بین الاقوامی

بھارت نے کشمیریوں کے حق پہ ڈاکہ ڈال دیا

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں گھناونی چال چل دی۔ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر دی۔ آرٹیکل 370 اور 37 اے ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش۔ ایوان میں وزیر داخلہ امت شاہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا ہنگامہ۔ بل کی مخالفت میں نعرے بازی کی گئی.

کشمیر کی صورتحال پر بھارت کی راجیہ سبھا اسمبلی کا اجلاس ہوا تو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش کیا۔ آرٹیکل 370 کی صرف ایک شق کے علاوہ باقی تمام شقیں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔

اجلاس میں بھارتی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اب غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کرسکیں گے اور 370 ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو جائےگی۔ آرٹیکل 370 ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ آرٹیکل 370 کشمیر کو بھارتی آئین کا پابند نہیں کرتا، مقبوضہ کشمیر جداگانہ علاقہ ہے، جسے اپنا آئین اختیارکرنے کا حق حاصل ہے۔

وزیر داخلہ امیت شاہ کے راجیہ سبھا میں خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کی گئی۔ اپوزیشن جماعت کے ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار نے آرٹیکل 35 اے ختم کیا تومخالفت کریں گے جبکہ ایک کانگریسی رہنما کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق قانون پر مشورہ نہیں کیا۔

اجلاس کے بعد بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے اور گورنر کاعہدہ ختم کرکے اختیارات کونسل آف منسٹرز کو دے دیئے، جس کے بعد مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔

گزشتہ ہفتے مودی سرکار نے وادی کشمیر میں خوف و حراس کی فضا قائم کر دی تھی۔ ایک حکم نامے میں امرناتھ یاترا کے لیے آئے یاتریوں اور سیاحوں کو فوراً وادی چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا تھا۔ جبکہ 28 ہزار اضافی بھارتی فوج تعینات کر دی گئی ہے۔ بھارتی پولیس نے غیر ملکی چینل کو بتایا تھا کہ انہیں امن و امان کی غیر معمولی صورتحال کے لیے فوری تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers