بین الاقوامی

حریت رہنماء مشال ملک کی بھارت پر تنقید

تہاڑ جیل کی ڈیتھ سیل میں حریت رہنماء یاسین ملک کیسے ہیں؟ بھارت بتاتا کیوں نہیں۔ حریت رہنماء مشال ملک کا عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ کہا کہ میڈیکل سہولت ہر قیدی کا بنیادی مقصد ہے تو یاسین ملک اس سے محروم کیوں ہیں؟ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھارت کو کڑی تنقید کا سامنا۔

اپنے ویڈیو پیغام میں حریت رہنماء یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے تمام بڑے ممالک سے بھارت پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام بتائیں کہ یاسین ملک کو اسپتال منتقل کیوں نہیں کیا گیا جبکہ ان کی طبیعت خراب تھی یاسین ملک کو ڈیتھ سیل اور قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا نہ ہی مجھے پتا ہے کہ وہ کس حال میں ہیں۔

آرٹیکل 370 کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آج کشمیر کی تحریک کی تاریخ میں سیاہ ترین دن ہے۔ مقبوضہ کشمیرکی جداگانہ حیثیت بھی ختم کردی گئی۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا مافیا اور قبضہ گروپ ہے جس نے آج تک کوئی عالمی قانون نہیں مانا، بھارت نے آج تک کشمیریوں کا خون چوسا ہے۔ مقبوضہ کشمیرسے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ کوئی بھی غیرمقامی قانون مقبوضہ کشمیرمیں زمین نہیں لے سکتا۔

انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی میں اپنی فوج کی تعداد بڑھا رہا ہے۔ اس مسٔلے کع اقوام متحدہ کے فورم پہ اٹھانا چاہیے۔ اس کے علاوہ جنگی ہیلی کاپٹروں سے مقبوضہ وادی میں نگرانی کی جا رہی ہے۔ 1947 میں بھارت نے ہزاروں کشمیریوں کو قتل کیا، وہی گیم پلان اب پھرسے دہرایا جا رہا ہے۔

آج بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش کیا۔ آرٹیکل 370 کی صرف ایک شق کے علاوہ باقی تمام شقیں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ آرٹیکل 370 کشمیر کو بھارتی آئین کا پابند نہیں کرتا، مقبوضہ کشمیر جداگانہ علاقہ ہے، جسے اپنا آئین اختیارکرنے کا حق حاصل ہے۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers