بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی مودی سرکار پر تنقید

آج کا دن جمہوریت کے ماتھے پر داغ ہے۔ محبوبہ مفتی کا رد عمل، کہا کہ بھارتی فیصلہ غیر آئینی ہے۔ اس فیصلے سے برصغیر میں تباہ کن نتائج برآمد ہونگے۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے پر بھارتی حکومت کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھارتی جمہوریت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ بھارتی حکومت کا آرٹیکل 370 یکطرفہ ختم کرنا غیرقانونی اور غیرآئینی ہے۔ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے فیصلے کے برصغیر پر تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی گھنونی نیت واضح ہے۔ بھارت مسلم اکثریتی کشمیرمیں آبادی کےتناسب کو بدلنا چاہتا ہے۔ بھارتی حکومت مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتی ہے۔ اس اقدام کے برصغیر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ بھارت کشمیریوں کو ڈرا کر کے جموں کشمیر پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ اب لگتا ہے کہ دوقومی نظریہ کی مخالفت کرنے والوں نے غلطی کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ مودی سرکار کا یہ فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کا 1947 کے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصادم ہے۔ بھارتی حکومت کا یہ یک طرفہ فیصلہ قانون اور آئین کے خلاف ہے۔ بھارت کشمیر میں اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا اور عوامی مقامات پر لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ جب کہ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور حریت لیڈر سجاد لون کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش کیا۔ آرٹیکل 370 کی صرف ایک شق کے علاوہ باقی تمام شقیں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اب غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کرسکیں گے اور 370 ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ آرٹیکل 370 ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

اس کے علاوہ آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ آرٹیکل 370 کشمیر کو بھارتی آئین کا پابند نہیں کرتا، مقبوضہ کشمیر جداگانہ علاقہ ہے، جسے اپنا آئین اختیارکرنے کا حق حاصل ہے۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers