قومی

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ناجائز اقدام مسترد کر دیا

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ناجائز اقدام مسترد کر دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مسٔلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا متنازعہ علاقہ ہے۔ بھارت کا کوئی یکطرفہ اقدام اس کی خود مختار حیثیت ختم نہیں کر سکتا۔ پاکستان بھارت کے اس غیر قانونی ہتھکنڈے کے خلاف ہر آپشن استعمال کرے گا۔

مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بھارتی اعلان کو پاکستان نے مسترد کردیا۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی طورپر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ بھارت کا کوئی بھی یک طرفہ اقدام کشمیر کی متنازعہ ہونے حیثیت ختم نہیں کر سکتا۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس غیرقانونی اقدام کےخلاف تمام ممکنہ آپشنز استعمال کرے گا۔ بھارت کے ایسے اقدامات کشمیریوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوں گے۔

ڈاکٹر فیصل کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت سے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشمیری رہنماؤں کو نظر بند اور گرفتار کیا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جغرافیائی تبدیلی کے خدشات بہت بڑھ رہے ہیں۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش کیا۔ آرٹیکل 370 کی صرف ایک شق کے علاوہ باقی تمام شقیں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اب غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کر سکیں گے اور 370 ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو جائےگی۔ آرٹیکل 370 ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ آرٹیکل 370 کشمیر کو بھارتی آئین کا پابند نہیں کرتا، مقبوضہ کشمیر جداگانہ علاقہ ہے، جسے اپنا آئین اختیارکرنے کا حق حاصل ہے۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers