قومی

آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کمیٹی کا اجلاس

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی شاطرانہ چال اور ایل او سی کی صورتحال پر عسکری قیادت کی بیٹھک۔ آرمی چیف جنرل باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس۔ بھارتی جارحیت اور مقبوضہ وادی کی خود مختار حیثیت بدلنے کے پروپیگنڈے پر غور۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر آج کور کمانڈرز کانفرنس طلب کی۔ کور کمانڈرز کانفرس میں مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرنے سے متعلق بھارت کے غیر آئینی اقدام اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔

کورکمانڈرز کانفرنس میں کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی جانب سے کلسٹر بموں سے حملے کے بعد کی صورت حال اور بھارت کے کسی بھی ممکنہ مس ایڈونچر کا موثر جواب دینے کی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر کلسٹر بموں کا استعمال کیا جس کی وجہ سے کئی پاکستانی زخمی اور شہید ہوئے تھے۔ جس کے بعد گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا۔ جس میں ایل او سی اور بھارتی جارحیت کی شدید مذمت بھی کی گئی۔

آپ کو مزید بتاتے چلیں کہ گزشتہ روز بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش کیا۔ آرٹیکل 370 کی صرف ایک شق کے علاوہ باقی تمام شقیں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اب غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کر سکیں گے اور 370 ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو جائےگی۔ آرٹیکل 370 ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ آرٹیکل 370 کشمیر کو بھارتی آئین کا پابند نہیں کرتا. مقبوضہ کشمیر جداگانہ علاقہ ہے، جسے اپنا آئین اختیارکرنے کا حق حاصل ہے۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers