قومی

وزیر اعلی سندھ کے خلاف نااہلی کی درخواست سپریم کورٹ میں منظور

دہری شہریت کیس میں وزیر اعلی سندھ مشکل میں پھنس گئے۔ سپریم کورٹ نے نااہلی کے لیے دائر نظر ثانی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر لی۔ مراد علی شاہ کو نوٹس جاری۔

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ کی نااہلی سے متعلق دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا جس کے بعد وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ میں 3 رکنی ججز پر مشتمل بنچ جسٹس عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عمر عطا بندیال نے مراد علی شاہ کی دوہری شہریت اور اقامے پر نااہلی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی۔

نااہلی کے لیے درخواست دہندہ روشن علی کے وکیل حامد خان نے عدالت کے سامنے موقف اپنایا کہ مراد علی شاہ کو سپریم کورٹ نے 2013 میں دوہری شہریت پر نااہل قرار دیا تھا۔ انہوں نے فیصلے پر نظرثانی کیلئے رجوع نہیں کیا۔ اس لحاظ سے ان کی نااہلی کا فیصلہ حتمی ہو چکا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کیلئے عدالتی ڈکلیئریشن چاہیے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہی ڈکلیئریشن ہے۔ ہر امیدوار اپنی اہلیت کا بیان حلفی ریٹرننگ افسر کو جمع کراتا ہے۔ جھوٹا بیان حلفی دینے پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دو ایک کی اکثریت کی بنیاد پر کیا۔ جسٹس عمرعطابندیال نےفیصلے سے اختلاف کیا۔

درخواست گزار کے وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ مراد علی شاہ نے الیکشن 2013 میں جھوٹ پر مبنی بیان حلفی دیا۔ انہوں نے کینیڈین شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ جمع ہی نہیں کرایا تھا۔ مراد علی شاہ 2008 کے الیکشن میں بھی دوہری شہریت کے ساتھ منتخب ہوئے تھے۔ 2012 میں سپریم کورٹ نے جب تمام اراکین اسمبلی سے دوہری شہریت سے متعلق بیان حلفی مانگے تو مراد علی شاہ نے بیان حلفی کے بجائے اسمبلی رکنیت سے استعفی دیا تھا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ جنوری 2019 میں سپریم کورٹ نے مراد علی شاہ سے متعلق نااہلی کی درخواست خارج کی تھی۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ صرف سیاسی مخالفت پرعہدے سے ہٹانے کی درخواست سنی نہیں جاسکتی۔ مراد علی شاہ 2013 میں دہری شہریت ترک کر چکے تھے۔ دہری شہریت چھوڑنے پر نااہلی ختم ہوگئی تھی۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ ہر کوئی عہدیداروں کی نااہلی کی درخواست سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ لے آتا ہے۔ درخواست گزاروں کو قانونی فورمز کا استعمال کرنا چاہیے۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers