قومی

مسئلہ کشمیر ہر فورم پر بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم پاکستان عمران خان تقریبا 4 بجے قومی اسمبلی میں تشریف لائے۔ اور اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جب میں حکومت میں آیا تو میرا یہ ماننا تھا کہ جب تک ہمسایہ مملک سے معاملات اچھے نہیں ہونگے تب تک آپ غربت کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس | وزیر اعظم عمران خان, شہباز شریف اور بلاول زرداری کا خطاب #AapNews #BreakingNews #PmImranKhan #KashmirIssue #ImranKhan #Parliament #Kashmir #ShehbazSharif #PMLN #BilawalZardari

Posted by Aap News on Tuesday, August 6, 2019

 

اسی بناء پر میں نے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ جب میری بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات ہوئی تو انہوں نے پاکستان میں تربیت پانے والے کیمپوں پہ تشویش کا اظہار کیا۔ جس پر میں نے ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ مودی سرکار نے الیکشن میں ووٹ لینے کے لیے پلوامہ کا ڈرامہ کیا جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ بھارتی پائلٹ کو واپس کر کے پاکستان نے تب بھی دنیا کو پیغام دیا کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ لیکن بشکک میں بھارتی وزیراعظم اور ان کے وفد کا رویہ دیکھ کر ہم نے فیصلہ کیا کہ اب ہم مزید بات چیت کے لیے ہاتھ نہیں بڑھائیں گے۔ اسی وجہ سے امریکی صدر سے ملاقات میں میں نے ان سے مسٔلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کو کہا۔

تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ آج ہم سب قائداعظم محمد علی جناح کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی دوراندیشی کی بناء پر یہ محسوس کر لیا تھا کہ آنے والے وقت میں مسلمانوں کے برصغیر میں کیا حالات ہونگے ۔ بولے کہ قائداعظم نے اپنی تقاریر میں کہا کہ ہندو رہنماء ہندوستان میں ہند راج قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح ہم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے اسی بناء پر پاکستان کی جدوجہد کی، ایک ایسی ریاست جس کا رول ماڈل ریاست مدینہ تھی۔

آر ایس ایس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی موجودہ حکومت آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی پر چل رہی ہے۔ ان کا مقصد ہندوستان سے اقلیتوں کا خاتمہ ہے اور ہند راج قائم کرنا ہے۔ آرٹیکل 370 کا خاتمہ اسی کی ایک کڑی ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ بھارت نے خطے کی ڈیموگرافی بدلنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اپنے نظریے کے لیے سارے بین الاقوامی اور ملکی قوانین توڑ دیے اس آرٹیکل کے خاتمے سے کشمیر میں مسلمان اپنی تحریک مزید چلائیں گے۔ اگر بھارت کو جواب دینے کے لیے کشمیریوں نے کوئی تلخ ردعمل دیا تو بھارت اس کا الزام بھی پاکستان پر لگا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت پلوامہ جیسا ایک اور واقع بھی کروا سکتا ہے۔

کشمیر کے کچھ لیڈر ماضی میں کہتے تھے کہ پاکستان غلط بنا لیکن آج وہی لوگ کہہ رہے ہیں قائد کا دو قومی نظریہ درست تھا، بی جے پی کی حکومت گوشت کھانے والوں کو لٹکا دیتی ہے جو انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں کیا یہ ان کا نظریہ ہے۔ ہمارا مقابلہ نسل پرستانہ نظریے سے ہے۔ کشمیر میں انہوں نے اپنے نظریے کے مطابق کیا۔ وہ ملک کے آئین کے خلاف گئے۔ سپریم کورٹ اور مقبوضہ کشمیر کی ہائیکورٹ کے خلاف گئے۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور شملا معاہدے کے خلاف گئے۔

مزید بولے کہ بار بار کہا دو ایٹمی قوتیں ایسا رسک نہیں لے سکتیں، اپنا مسئلہ بات چیت سے حل کرنا چاہیے۔ ان لوگوں میں ایک تکبر نظر آتا ہے جو ہر نسل پرست میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں بھی کچھ کرنا ہے، کوئی ایکشن لیا تو جواب دیں گے، یہ نہیں ہو سکتا، اگر بھارت حملہ کرے گا تو ہم جواب دیں گے۔ اس سے روایتی جنگ ہو سکتی ہے۔ اس کے دو نتیجے ہوسکتے ہیں۔ اگر ہمارے خلاف جنگ جاتی ہے تو بہادر شاہ یا ٹیپو سلطان کا راستہ اپنانا ہوگا۔ ہاتھ کھڑے کردیں گے یا خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو ہر فورم پر بھرپور طریقے سے اٹھائیں گے۔ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھائیں گے۔ مودی سرکار نازیوں جیسی حرکتیں کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے نقصان مسلمانوں کا ہو رہا ہے اس لیے دنیا رسپانس نہیں دے رہی۔ یہ کھیل اور آگے جائے گا تو مستقبل میں نقصان کے ذمہ دار ہم نہیں ہوں گے۔ مغربی دنیا کہتی تھی نازیوں نے نسل کشی کی، مغربی دنیا کو مسلمانوں کی نسل کشی نظر نہیں آرہی۔ ہم بالکل خاموش نہیں بیٹھیں گے، عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھائیں گے۔

Comment here

379,066Subscribers
8,414Followers