قومی

قومی اسمبلی کے اجلاس میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کے خلاف قرارداد منظور

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری۔ مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرنے کے خلاف قرارداد پیش۔ آرٹیکل 370 کا ذکر نہ کرنے پر اپوزیشن کا احتجاج۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ وزیراعظم اور صدر آزاد کشمیر بھی گیلری میں موجود۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی اورسینیٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا۔ جس میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف، رضا ربانی کھر، شیری رحمان، مشاہداللہ، خان حاصل بزنجو اور چیٔرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی شرکت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم اور صدر آزاد کشمیر بھی گیلری میں بطور مہمان موجود ہیں۔

اجلاس کے آغاز میں اعظم سواتی نے ایوان میں بھارتی اقدام کے خلاف قرارداد پیش کی مگر تحریک میں آرٹیکل 370 شامل نہ کرنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔ آرٹیکل 370 کا ذکر نہ ہونے کی سب سے پہلے نشاندہی اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے کی۔ انہوں نے کہا مودی نے سفاکانہ طریقے سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا لیکن ایجنڈے میں اس کے سفاکانہ اقدام کا ذکر تک نہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا قرارداد میں آرٹیکل 370 کا ذکر ہی نہیں۔ اس میں ترمیم کی جائے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی اپوزیشن کی حمایت کر دی اور کہا قرارداد میں آرٹیکل 370 کا معاملہ شامل کیا جائے۔ اجلاس 20 منٹ تک مؤخر ہونے کے دوران حکومت نے ترمیم کے بعد آرٹیکل 370 کو شامل کر لیا۔

اپوزیشن کے مطالبے پر آرٹیکل 370 کے نفاذ سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث کی تحریک منظور کر لی گئی اور اسپیکر نے بحث کے آغاز کے لئے شیریں مزاری کو مائیک دیا تاہم بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے نہ کروانے پر اپوزیشن نے پھر احتجاج شروع کر دیا جب کہ اپوزیشن نے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت کا بھی مطالبہ کیا۔ ایوان میں پھر شور شرابے کے باعث اسپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے پھر ملتوی کردیا۔

مشترکہ اجلاس دو دن تک جاری رہنے کا امکان ہے اور زرائع کے مطابق وزیراعظم کی تقریر کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے۔ زرائع کے مطابق وزیراعظم اپنی تقریرمیں پارلیمنٹ، قوم، کشمیری عوام اور عالمی کمیونٹی اور بھارتی عوام سے بھی مخاطب ہوں گے۔ وزیراعظم جارحانہ انداز سے تقریر کریں گے۔ ان کی تقریر کافی مضبوط اور لمبی ہو گی۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers