بین الاقوامیقومی

سفارتی تعلقات ختم کرنے کے فیصلے پر پاکستان نظرثانی کرے۔ بھارتی حکام

سفارتی تعلقات محدود کیوں کیے؟ پاکستان کے سخت اقدامات بھارت کو چبھنے لگے۔ پاکستان سفارتی تعلقات کے فیصلے پر نظر ثانی کرے، بھارت کی درخواست۔ وزارت خارجہ نے آرٹیکل 370 کو اندرونی معاملہ قرار دینے کی الٹی منطق پیش کر دی۔

پاکستان کی جانب سے سفارتی تعلقات محدود کرنے پر بھارتی حکومت کے ہوش ٹھکانے لگ گئے۔ بھارتی حکومت نے پاکستان سے سفارتی معاملات معمول پر لانے کی گزارش کر دی۔ بھارتی وزارت خارجہ نے کہا کہ بات چیت کا راستہ دونوں ملکوں کو کھلا رکھنا چاہیئے۔ پاکستان اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے پر پاکستان کی جانب سے بھارت سے دوطرفہ تجارتی معاملات کے خاتمے اور بھارتی ہائی کمشنر کی واپسی پر بھارتی دفتر خارجہ نے اپنے رد عمل میں کہا کہ پاکستان کا یہ فیصلہ دنیا کے سامنے بھارت کی ایک پریشان کُن تصویر پیش کرنے کی کوشش تھی۔

بھارت نے ایک بے تکی منطق پیش کی کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ۔ یہ ہمیشہ خودمختار معاملہ ہی رہے گا۔ اس اقدام سے جموں کشمیر کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ پاکستان کی جانب سے ایسے اقدامات سے دنیا کو پیغام جائے گا کہ پاک بھارت کے تعلقات انتہائی نازک حالات سے دوچار ہیں۔

بھارتی دفتر خارجہ نے اپنی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر سے متعلق کیے گئے فیصلے پرایک اور انوکھی منطق پیش کی کہ حکومت کا یہ فیصلہ جموں و کشمیر کی ریاست میں میں ترقی کے مواقع بڑھانے کا عزم ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 5 اگست کو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم کرنے کا بل راجیہ سبھا میں پیش کیا تھا۔ آرٹیکل 370 کی صرف ایک شق کے علاوہ باقی تمام شقیں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اب غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کر سکیں گے اور 370 ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو جائےگی۔ آرٹیکل 370 ریاست جموں و کشمیر کو اپنا آئین بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دیتا ہے۔

آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو ایک خصوصی اور منفرد مقام حاصل ہے۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست جموں کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ آرٹیکل 370 کشمیر کو بھارتی آئین کا پابند نہیں کرتا، مقبوضہ کشمیر جداگانہ علاقہ ہے، جسے اپنا آئین اختیارکرنے کا حق حاصل ہے۔

اس کے بعد پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کیساتھ سفارتی تعلقات میں کمی اور باہمی تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 5 نکاتی اعلامیے میں کہا گیا کہ بھارت کیساتھ دو طرفہ معاہدوں پر نظر ثانی کی جائیگی۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونیوالے فیصلوں کی روشنی میں پاکستان نے بھارتی سفیر ( ہائی کمشنر) اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا بھی حکم دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے انہیں اس بارے میں باضابطہ آگاہ کیا۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers