بلاگ

وادی کشمیر اور آرٹیکل 370

وادی کشمیر!!

کشمیر وہ وادی جہاں ایک جنازے کو منزل تک پہنچانے کے لیے کئی جنازوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ وہ وادی جہاں پچھلے 72 سالوں سے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں. جہاں بھارتی فوج کی جانب سے لوگوں کے وقار کو مجروح اور عزتوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ اسی بھارت نے پھر سے کشمیریوں کی خود مختاریت پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ آرٹیکل 370 کے ختم ہونے سے خطے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے سے پہلے ہمیں ایک بار مسٔلہ کشمیر اور آرٹیکل 370 کے تشکیل ہونے پر ایک نظر دہرانی ہوگی۔

State of Jammu and Kashmir is designated as disputed territory
The correct legal position under international law is the whole state of Jammu and Kashmir is designated as disputed territory

مسٔلہ کشمیر کا پس منظر:

1947ء میں بٹوارے کے وقت برصغیر میں موجود تمام سلطنتوں کو ایک آپشن دی گئی کہ وہ اپنی مرضی سے اس بات کا تعین کریں کہ وہ پاکستان میں رہیں گے یا انڈیا میں اور کشمیر بھی انہیں ریاستوں میں سے ایک تھی۔ مختلف دریاؤں سمیت خوبصورت نظاروں کو اپنے اندر سمیٹنے والی اس وادی میں مسلمان اکثریت میں تھے جن کا حکمران ہندو ہری سنگھ تھا۔

1947ء میں آزادی کے بعد وادی میں ہندو اور مسلمانوں کی نقل مکانی کے دوران جب دنگے شروع ہوئے تو صورتحال پہ قابو نہ پانے کے باعث راجہ ہری سنگھ نے انڈیا سے الحاق کا ایک جزوی معاہدہ کیا جس میں راجہ ہری سنگھ اور انڈیا کے گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن میں 27 اکتوبر 1947ء میں یہ اتفاق پایا کہ وادی میں صورتحال پر قابو پانے کے لیے انڈیا اپنی فوج بھیجے گا اور دنگے فساد ختم ہونے کے بعد عوام کی کثرت رائے سے یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ کشمیر کو کس ریاست میں ظم کیا جائے یا اسے ایک آزاد ریاست کی حیثیت دی جائے۔ تب تک ریاست کشمیر گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی پاسداری کرے گی ۔

بھارت کی ہٹ دھرمی:

چونکہ اس معاہدے میں عوامی رائے شامل نہیں تھی اس لیے حکومت پاکستان نے اس معاہدے کو رد کرتے ہوئے ماننے سے انکار کر دیا۔ کشمیر میں مجاہدین کی سرگرمیاں تیز ہوتی گئیں اور اس کے نتیجے میں انڈیا اور پاکستان میں جنگ چھڑی۔ مسلمانوں کے جذبے نے جب بھارتیوں کے ہوش ٹھکانے لگائے تو اپنی شکست کو یقینی دیکھتے ہوئے بھارتی وزیراعظم جواہرلال نہرو مسٔلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے فورم پہ لے گئے۔ اقوام متحدہ کی مداخلت کی وجہ سے دونوں ملکوں کو جنگ بندی کرنی پڑی اور پاکستان کے حصے میں کشمیر کا 1/3 حصہ جبکہ بھارت کے حصے میں 2/3 مقبوضہ کشمیر آیا۔ مگر تب سے لے کر آج تک مسٔلہ کشمیر اقوام متحدہ اور بھارت کی ہٹ دھرمی کا شکار ہے۔

آرٹیکل 370 کی تشکیل:

مقبوضہ کشمیر میں دھاندلی شدہ الیکشن کے بعد شیخ عبداللہ اقتدار میں آئے۔ مئی 1949 بھارتی حکام کے کشمیری نمائندوں سے مذاکرات کے بعد آرٹیکل 370 کو تشکیل دے کر بھارتی آئین کے ڈرافٹ میں شامل کر لیا گیا۔ آرٹیکل کے مطابق کشمیر کی اپنی اسمبلی اور اپنا آئین ہو گا جس کی وجہ سے اس کو ایک جداگانہ حیثیت حاصل ہو گی۔ کشمیر اپنی قانون سازی خود کر سکے گا۔ جبکہ دفاع، خارجی امور، اور مواصلات کا نظام بھارتی حکومت کے ہاتھ میں ہو گا۔ اسی کی بناء پر بھارت نے آج تک کشمیریوں کو یرغمال بنائے رکھا ہے۔

بھارتی فوج نے وادی میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید فوج کی نفری کر کے کشمیر پہ اپنا شکنجہ مظبوط کر لیا۔ دن رات ظلم و ستم ڈھا کر بھارتی فوج نے برملا کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے مگر کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ جڑنے کی خواہش اور آزادی کے جذبے کے باعث ہمیشہ اسے منہ کی کھانی پڑی۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے کی اصل وجہ:

بھارت کا اصل مقصد وادی کشمیر اور جموں کے خطے پہ مکمل اور قانونی طور پر قبضہ کرنا ہے۔ اسی لیے آج تک اس نے ریفرینڈم کے معاملے پر تا خیر اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مودی سرکار کا مشن آرٹیکل 370 ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو مکمل طور پر بھارت کے قومی اور جغرافیائی دھارے میں لانا ہے۔ اس آرٹیکل کے خاتمے سے کوئی بھی ہندوستانی کشمیر میں مستقل رہائش اختیار کر سکے گا۔ کسی بھی دوسری بھارتی ریاست سے تعلق رکھنے والا شخص وہاں جائیدادیں خرید سکے گا، کاروبار کر سکے گا۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مودی سرکار کا اگلا مشن مسلمانوں کو مزید دیوار کے ساتھ لگا کر رفتہ رفتہ ان کو اس خطے سے بے دخل ہونے پہ مجبور کر کے آبادی کا تناسب بدلنا ہے۔ بی جے پی کا اصل مقصد کشمیر پہ اسرائیلی ماڈل کا نفاذ کرنا ہے جس پہ وہ مسلمانوں پہ مزید ظلم ڈھا سکے۔

بھارت کی کامیابی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال:

اگر مودی اپنے اس گھناونے مقصد میں کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں مقبوضہ کشمیر سے مسلمانوں کی شناخت ختم ہوتی جائے گی اور پھر ریفرنڈم کے بعد مقبوضہ کشمیر جس میں ہندو اکثریت میں ہونگے قانونی طور پر بھارت کے پلڑے میں چلا جائے گا۔ جغرافیائی اعتبار سے کشمیر پاکستان کے لیے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ تمام دریاوں اور نہروں کا پانی کشمیر سے بہتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ اگر بھارت اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہو کر یہ پانی روکنے میں کامیاب ہو جائے تو پاکستان جو کہ ایک ذرعی ملک ہے اور جس میں پانی کی شدید قلت ہے، اس کی حیثیت ایک بنجر زمین کی ہو کے رہ جائے گی۔ جس کے بعد پاکستان میں لوگوں کو بھوک پیاس کے لالے پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا گیا ہے۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے پہ کشمیریوں کا ردعمل:

آرٹیکل 370 کا خاتمہ مودی اور بھارت کے لیے وبال جان بھی بن سکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر جہاں مسلمان پہلے دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے اب ایک ہونگے۔ وہ مسلمان جو پہلے دن سے پاکستان کے لیے اپنی جان قربان کر رہے ہیں۔ جنہوں نے کشمیر بنے گا پاکستان کے نام پہ بے مثال اور لاتعداد قربانیاں دی ہیں اب اپنی تحریک مزید زور و شور اور جذبے سے چلائیں گے اور اب ان کو اپنی تحریک میں ان مسلمانوں کا ساتھ بھی ہو گا جو کشمیر کو بحیثیت ایک خود مختار ریاست آزاد کروانے کے لیے کوشاں تھے۔

بھارت کے اس عمل سے تمام کشمیری رہنماء اب بھارت کے خلاف یک زبان ہونگے اور آنے والے وقت میں ڈیڑھ کڑور کی مسلمان آبادی پر مشتمل یہ خطہ اب ایک نئی پرجوش تحریک کا حامل ہوگا اور آنے والے وقت میں ایسی صورتحال پیداہو سکتی ہے جس میں مزید قتل و غارت ہو۔ سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر دیس کا راگ الاپنے والے بھارت کا گھناؤنا چہرہ اس کے اس اقدام کے بعد پوری دنیا کے سامنے بےنقاب ہو گا۔

پاکستان کا ممکنہ لائحہ عمل:

بھارت کی اس سازش کے بعد پاکستان کو بھارت کے خلاف اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ اس کو ہر انٹرنیشنل فورم پہ بھارت کے ناپاک ارادوں اور گھناونے چہرے کو کھل کر بے نقاب کرنا ہو گا۔ اقوام متحدہ کو اس کی سست روی اور جانبدار ہونے کا احساس دلانا ہو گا۔ او آئی سی اور دیگر مسلم پلیٹ فارمز کے ذریعے پوری مسلم امہ کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانہ ہو گا کہ مسلم دنیا کے وہ لیڈر جو شام اور فلسطین میں مسلمانوں پہ مظالم ڈھائے جانے پر بھی چپ سادھے رہے. کشمیری مسلمانوں کے معاملے پر اپنے مفادات کو بھلا کر ان کے سر پر دست شفقت رکھیں۔

پاکستان کو ہیومن رائٹس سے متعلقہ آرگنائزیشنز کی آنکھوں سے پٹی ہٹا کر ان کو اطلاع دینی ہو گی کہ کشمیر میں رہنے والے بچے، بوڑھے، نوجوان اور خواتین آپ کی مدد کے منتظر ہیں۔ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر سفارتی محاذ پر بھارت کا چہرہ بے نقاب کر کے اس پر چائنہ، ترکی، ملائیشیہ، امریکہ، روس، فرانس اور برطانیہ جیسے طاقتور ممالک کے ذریعے دباؤ ڈالنا ہو گا تاکہ وہ اپنے اس اقدام سے پیچھے ہٹ سکے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو ہر وہ عمل کرنا ہو گا جس سے وہ کشمیریوں کو یہ احساس دلا سکے کہ ان کے مشکل وقت میں پاکستان پہلے بھی ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا تھا، آج بھی کھڑا ہے اور آگے بھی کھڑا رہے گا۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers