قومی

مریم نواز کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار مریم نواز کی عدالت میں پیشی۔ مریم نواز 21 اگست تک جسمانی ریمانڈ پہ نیب کے سپرد۔ پیچی کے موقع پر عدالت میں لیگی کارکنوں کی دھکم پیل اور پولیس سے جھڑپیں۔ حمزہ شہباز اور مریم نواز کی عدالت میں ملاقات۔

عدالت نے چودھری شوگر ملز کیس میں گرفتار مریم نواز اور یوسف عباس کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ عدالت نے دونوں کو 21 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر کمرہ عدالت میں کیپٹن (ر) صفدر، جنید صفدر، رانا اقبال، خرم دستگیر بھی موجود تھے۔

عدالت میں نیب پراسیکیوٹرحافظ اسد اللہ نے کہا مریم نوازکے اکاؤنٹ سے مشکوک ٹرانزیکشنز ہوئیں، مریم نواز کو 2 مرتبہ نیب آفس طلب کیا گیا۔ جس پر عدالت جج نعیم ارشد نے ان سے پوچھا آپ کے پاس کیا مواد ہے؟ جس پر آپ نے مریم نواز کو طلب کیا۔

نیب نے کہا نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، مریم نواز اور یوسف عباس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا، مریم نواز چوہدری شوگر مل کی ڈائریکٹر ہیں۔ اور وہ 1992 سے 1997 تک ڈائریکٹر رہیں۔ ان کے 84 لاکھ روپے کے شیئرز تھے جو 41 کروڑ کے ہو گئے۔ یہ شیئرز کس سے خریدے گئے، رقم کے بارے میں معلومات نہیں دی جا رہیں۔ عدالت سے گزارش ہے کہ ان کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

دوسری جانب مریم نواز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پاناما جے آئی ٹی نے چوہدری شوگر ملز کو نواز شریف کی بے نامی کمپنی بتایا تھا۔ لیکن اب اسے مریم نواز اور یوسف عباس سے جوڑا جا رہا ہے۔

مریم نواز کے وکیل نے نیب کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے گزارش کہ ایسے حالات میں کسی خاتون کا جسمانی ریمانڈ کیسے دیا جا سکتا ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ مریم نواز کے وکیل ہمیشہ ایک جیسے دلائل دیتے ہیں۔ لمبی بحث کے باوجود بھی وہ کیس پر نہیں آ رہے۔ بعد میں احتساب عدالت نے مریم نواز اور یوسف عباس کو 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا اور دونوں ملزموں کو 21 اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

مریم نواز کی پیشی کے موقع پر ن لیگی کارکنوں کی احتساب عدالت کے اندر جانے کی کوشش کی جس پر لیگی کارکنوں اور پولیس اہلکاروں میں تکرار ہوئی اور عدالت کے باہر دھکم پیل بھی ہوئی۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ گزشتہ روز مریم نواز اپنے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھپت پہنچیں تھیں۔ جہاں سے نیب حکام نے انہیں اپنی حراست میں لیا۔نیب کی ٹیم چار گاڑیوں کے ساتھ دو راستوں سے پہنچی تھی۔ ایک راستے سے لیڈیز پولیس اہلکار اور دوسرے سے مرد پولیس حکام جیل پہنچے۔ نیب اہلکار مریم نواز کو لے کر روانہ ہوگئے ۔

About Author

Comment here

Subscribers
Followers